افغانستان نے پاکستان پر کی ڈرون کی بارش، آئی ایس آئی ایس کے اڈوں میں تباہی کا منظر

افغانستان کا کہنا ہے کہ ملک کسی بھی خطرے کی نشاندہی کرنے، اسے ناکام بنانے اور مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اپنی تمام دستیاب صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div><div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>

i

user
google_preferred_badge

افغانستان اور پاکستان کے درمیان حملہ اور جوابی حملہ سے خطہ میں کشیدگی پھیلی ہوئی ہے۔ آج ایک بار پھر افغانستان نے پاکستان پر زوردار جوابی حملہ کیا ہے۔ افغانستان کی فضائیہ نے بلوچستان میں کئی ’دہشت گرد ٹھکانوں‘ پر ڈرون کی بارش کی۔ افغانستان کا کہنا ہے کہ اس نے داعش (آئی ایس آئی ایس) کے اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان مقامات کو بعض خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے افغانستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کی ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ پہلے بھی کئی مہلک حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کے آغاز کے لیے عملیاتی مراکز کے طور پر کام کر چکے تھے۔ افغانستان کے تازہ حملوں میں ضلع قلعہ عبداللہ کے گلستان علاقہ واقع مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان گزشتہ چند دنوں سے افغانستان پر مسلسل حملے کر رہا تھا۔ اس کے بعد افغانستان نے پاکستان سے بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ افغانستان کی اسلامی امارت کی وزارت دفاع کی فضائیہ نے پاکستان کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ ان مقامات کو بعض مخالف خفیہ گروہوں کی مدد سے افغانستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اور یہ پہلے بھی کئی جان لیوا حملوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔

وزارت دفاع نے کہا کہ تازہ حملوں میں ضلع قلعہ عبداللہ کے گلستان علاقہ کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے شکرآب جنگل گڑی علاقہ میں داعش کے جنگجوؤں اور دیگر مخالف عناصر کے زیر استعمال مشترکہ تنصیبات پر بھی کامیاب حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ خیبر کے اورکزئی ایجنسی کے کمبر خیل علاقہ میں داعش خراسان کے ایک اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

افغان طالبان کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایک ایسے مقام کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جہاں اس گروہ کے کئی اہم لیڈران اکثر آتے جاتے رہتے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس آپریشن کے دوران پہلے سے طے کیے گئے تمام بڑے اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ افغانستان نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ اب اپنی سلامتی اور استحکام کے لیے کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ملک کسی بھی خطرے کی نشاندہی کرنے، اسے ناکام بنانے اور مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اپنی تمام دستیاب صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *