کے این واصف
غلاف کعبہ کی تیاری کی ایک طویل تاریخ ہے اور کسوۃالکعبہ (غلافِ کعبہ) کی نگہداشت اور خدمت کی تاریخ کے حوالے سے متعدد ایسی شخصیات کے نام نمایاں ہیں جنہوں نے گزشتہ ادوار میں اہم کردار ادا کیا۔
ان نمایاں ناموں میں سعودی خطاط عبدالرحیم امین بخاری سرفہرست ہیں جن کا غلافِ کعبہ کی تیاری سے دیرینہ تعلق رہا ہے۔ وہ عربی خطاطی کے ان ممتاز اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیت اللہ کے غلاف پر اپنے فن کے ایسے نقوش ثبت کیے ہیں جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
ان کی خدمات، مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کے اعتراف میں ان کا نام غلافِ کعبہ پر تحریر کیا گیا جو ان کے لیے ایک منفرد اعزاز اور غیرمعمولی فنی ورثے کا اعتراف ہے۔سعودی خبر رساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق عبدالرحیم امین بخاری مکہ مکرمہ میں سال ہجری 1335 میں پیدا ہوئے اور مستند اسلامی فنون سے رغبت رکھنے والے گھرانے میں پرورش پائی۔
عربی خطاطی میں ان کی صلاحیتیں ابتدا میں ابھر کر سامنے آئیں۔ انہوں نے عربی خطاطی کے اس شوق کو کسوہ کے لیے وقف کر دیا۔عبدالرحیم امین بخاری نے غلافِ کعبہ کی تیاری اور اس پر آیات قرآنی کو سونے اور چاندی کے دھاگوں سے کڑھائی کرنے کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا جو یقینی طور پر انتہائی باریک بین اور مہارت سے بھرپور فنی کام ہے۔
انہیں اجیاد میں کسوہ سازی کے ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے خانہ کعبہ کے دروازے کی خطاطی اور سجاوٹ میں حصہ لیا، بعدازاں “ام الجود” میں کسوہ فیکٹری کے سیکریٹری مقرر کیے گئے۔
اپنی خدمات کے دوران عبدالرحیم امین بخاری نے کسوہ فیکڑی میں خود کار سسٹم متعارف ہونے کے بعد 21 غلافوں کی تیاری میں حصہ لیا۔ انہوں نے خانہ کعبہ کے تین دروازوں کی خطاطی اور تزئین و آرائش کی نگرانی بھی کی۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک وہ اس عظیم و مقدس خدمت سے وابستہ رہے۔
ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے دور حکومت میں عبدالرحیم امین بخاری کا نام غلافِ کعبہ پر پہلی مرتبہ ثبت کیا گیا۔یہ منفرد اعزاز تھا جو ان کے بلند مقام اور بیت اللہ کی خدمت کے لیے ان کی پائیدار خدمات کا اعتراف ہے۔
آج بھی ان کا نام غلافِ کعبہ پر نقش ہوتا ہے جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں، فنی مہارت اور طویل خدمات کے سفر کی یاد دلاتا ہے۔

