دگ وجے سنگھ رانا کے مطابق متوفی طالب علم نے نیٹ کا امتحان دیا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ امتحان اچھا ہوا ہے۔ اسے امید تھی کہ نتائج اس کی توقعات کے مطابق آئیں گے۔ پولیس کے مطابق طالب علم اپنی کارکردگی کو لے کر پُرجوش بھی تھا اور اس نے کبھی امتحان کے حوالے سے اپنی والدہ کے ساتھ کسی تشویش یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ دو روز قبل اس نے فارما کے لیے فارم بھی پُر کیا تھا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالب علم کم گو اور تنہائی پسند مزاج کا تھا۔ وہ اپنی باتیں دوسروں سے کم ہی شیئر کرتا تھا، تاہم کبھی کبھار اپنی والدہ اور ماموں سے گفتگو کرتا تھا۔ اس کے والد پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور سورت میں رہتے ہیں۔
