ایران۔امریکہ مفاہمتی یادداشت پر عالمی ردعمل؛ واشنگٹن کی تاریخی شکست قرار

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد عالمی سطح پر مختلف شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض مبصرین نے اسے خطے میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے امریکہ کی سفارتی ناکامی اور ایران کے سامنے پسپائی سے تعبیر کیا۔

مشرق وسطی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ امریکی سفارت کار اور امریکی محکمہ خارجہ کی سابق معاون وزیر برائے مشرق قریب باربرا لیف نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔ ٹرمپ جنگ میں واپسی نہیں چاہتے، لیکن انہوں نے وہ سفارتی دباؤ اور اثرورسوخ کھو دیا ہے جو جنگ کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں جنگ کے خاتمے کی صورت میں ان کے پاس موجود ہوسکتا تھا۔

امریکہ کی سابق قومی سلامتی مشیر سوزن رائس نے معاہدے کو خوفناک اور چونکا دینے والی دستاویزِ تسلیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی مفاہمت ہے جس میں سینکڑوں ارب ڈالر کے ہرجانے شامل ہیں۔ ان کے مطابق، یہ نااہل مذاکرات اور تباہ کن جنگی حکمت عملی کا متوقع نتیجہ ہے اور امریکہ جلد اس بڑی قومی سلامتی کی غلطی سے باہر نہیں نکل سکے گا۔

دوسری جانب ریاست کنساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل نے مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کے لیے میزائل رکھنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ایران کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے یا جوہری وار ہیڈ سے لیس میزائل نہیں دیکھنا چاہتے، تاہم ان کے خیال میں کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کی صلاحیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو مکمل ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس پر زمینی فوج کشی اور فوجی قبضہ نہ کیا جائے، اور یہ معاہدہ مشرق وسطی کے بیشتر ممالک کی حمایت حاصل ہونے کے باعث دیرپا ثابت ہوسکتا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کو خطے میں استحکام کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔ یہ معاہدہ ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو محدود کرنے اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کی بحالی میں معاون ثابت ہوگا۔ تاہم یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ اگر دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کو ان سے محروم رکھنا غیرمنصفانہ ہوگا۔

امریکی صحافی اور مبصر ٹاکر کارلسن نے اس مفاہمتی یادداشت کو امریکی سلطنت کے خاتمے کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے اس پیش رفت کا موازنہ 1956 کے سویز بحران سے کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ ایران خطے میں ایک فیصلہ کن قوت ہے اور یہی اعتراف سب کچھ بدل دیتا ہے۔

ان کے مطابق، دنیا کی سب سے بڑی اور مہنگی فوج رکھنے کے باوجود امریکہ دنیا کی چونتیسویں بڑی معیشت پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں ناکام رہا، اور یہ معاہدہ امریکی عالمی غلبے کے زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ حاصل شدہ مفاہمت کی پابندی کریں اور کشیدگی میں دوبارہ اضافے سے گریز کریں۔

روس نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں پر زور دینا بے بنیاد الزامات کا بہترین جواب ہے۔ ماسکو نے امید ظاہر کی کہ یہ امن خلیج فارس کے ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگا۔

ادھر صدر ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں خدمات انجام دینے والے بعض سابق امریکی عہدیداروں نے بھی معاہدے پر شدید تنقید کی۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سابق سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ ایرانی امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ ایران کے لیے اربوں ڈالر جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

سابق امریکی نائب صدر مائیک پینس نے ایران پر حملے کے فیصلے پر ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں پر حقیقی خدشات کا اظہار کیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر سینیٹر کرس مرفی نے بھی معاہدے کے مندرجات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مفاہمت کے تحت ایران نے کوئی رعایت نہیں دی، جبکہ امریکہ نے اسے آزادانہ تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ 300 ارب ڈالر ہرجانے کی ادائیگی بھی قبول کی ہے۔ یہ معاہدہ مکمل طور پر ایران کی شرائط پر مرتب کیا گیا ہے اور اس نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ایک شرمناک اور تباہ کن غلطی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو حلقے مسلسل ایران پر بمباری کو بہتر معاہدے کا راستہ قرار دیتے تھے، وہ غلط ثابت ہوئے ہیں۔

ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو امریکی مفادات کے لیے غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے تحت امریکہ نے عملاً آبنائے ہرمز پر ایران کے مستقل کنٹرول کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس شق سے امریکہ کو کیا فائدہ حاصل ہوگا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *