ایران کے ساتھ نیا معاہدہ امریکہ کے لیے شکست اور مہنگا سودا ہے، نینسی پلوسی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی کانگریس کی رکن اور سابق اسپیکر ایوان نمائندگان نینسی پلوسی نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی نئی مفاہمتی یادداشت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے امریکہ کے لیے ایک واضح شکست قرار دیا ہے۔

امریکی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے پلوسی نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکی ٹیکس دہندگان پر اربوں ڈالر کا اضافی بوجھ ڈالے گا جبکہ اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی مؤثر شق شامل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایران کے ساتھ موجود ایک اچھے معاہدے کو منسوخ کیا اور اب وہ ایسے معاہدے کے ساتھ واپس آئے ہیں جسے خود ریپبلکن حلقوں میں بھی ناکامی سمجھا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ درحقیقت امریکہ کی شکست ہے۔

پلوسی نے مزید کہا کہ اگر امریکہ ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر فراہم کرے، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں ختم کرے اور اس کے علاوہ بھی کئی رعایتیں دے، تو یہ مضحکہ خیز ہے۔ ایران کے ساتھ سابق جوہری معاہدے پر سب سے بڑی تنقید یہ تھی کہ اس میں بیلسٹک میزائلوں کے معاملے کو شامل نہیں کیا گیا تھا، جبکہ نئے معاہدے میں بھی اس مسئلے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

سابق اسپیکر نے کہا کہ امریکہ نے ایک اچھا معاہدہ ختم کیا، جنگ میں داخل ہوا اور اس دوران امریکی فوجیوں کی جانوں کا نقصان بھی برداشت کیا، لیکن اس کے باوجود اب ایک ایسے معاہدے تک پہنچا ہے جس کے تحت امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر ایران کو دینے پڑیں گے۔

نینسی پلوسی نے زور دے کر کہا کہ اس پالیسی کی قیمت بالآخر عام امریکی عوام کو ادا کرنا پڑے گی، کیونکہ انہیں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی دباؤ کی صورت میں اس کے اثرات برداشت کرنا ہوں گے، جو ان کی روزمرہ زندگی پر بھاری بوجھ بن چکا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *