امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا خاتمہ، امن معاہدے پر ٹرمپ اور ایرانی صدر کے دستخط – ہرمز کھلے گا، تیل سستا ہوگا ؟

واشنگٹن/تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے باضابطہ طور پر مفاہمتی یادداشت  پر دستخط کر دیے، جس کے ساتھ ہی یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا۔

 

14 نکات پر مشتمل اس معاہدے کو “اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ بیٹوین دی یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ اینڈ دی اسلامک ریپبلک آف ایران” کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکے تھے۔

 

جی-7 سربراہی اجلاس کے اختتام کے بعد فرانس کے شہر ورسائی میں واقع محل ورسائی میں صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے دی گئی ضیافت کے دوران معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ وائٹ ہاؤس نے اس تقریب کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ کے دستخطوں کے ساتھ یہ معاہدہ مستقل امن کی راہ ہموار کرے گا اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔

 

صدر ٹرمپ  صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے ایران کے ساتھ مفاہمتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ تقریب دراصل سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہونا تھی، تاہم اسے مقررہ وقت سے قبل انجام دیا گیا، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق جنیوا میں دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقاتیں بدستور ہوں گی۔

 

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی معاہدے پر دستخط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 60 روزہ اس مفاہمتی دورانیے کے دوران امریکہ کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو معاہدے کو کمزور کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عرصے میں ایران پر نئی پابندیاں عائد نہ کی جائیں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ بھی نہ کیا جائے۔

 

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم ملک کے اندر ہی محفوظ رکھا جائے گا اور اسے بیرون ملک منتقل نہیں کیا جائے گا۔

 

پاکستان، جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، نے بھی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اسے “اسلام آباد مفاہمتی معاہدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے پہلے مرحلے میں ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے گا جبکہ امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *