
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے، امریکی ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان زیر غور معاہدے کے تحت ایران کو اپنی تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس سے برسوں کی سخت پابندیوں کے بعد ایرانی معیشت کو مالی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ساٹھ روزہ مذاکراتی مدت کے دوران ایران کو تیل فروخت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پابندیوں سے استثنا دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد شروع ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کے ساتھ ایران کی بندرگاہوں کے محاصرے میں نرمی کے وعدے سے ایرانی معیشت میں فوری نقدی کا بہاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مجوزہ معاہدے میں بینکاری، شپنگ اور انشورنس سمیت ضروری خدمات کے شعبے بھی شامل ہوں گے، جو تیل کی فروخت کو آسان بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
تاہم ایک سینئر امریکی عہدیدار نے ان رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران صرف اسی صورت میں اس مفاہمت کے فوائد حاصل کر سکے گا جب وہ اپنی تمام ذمہ داریوں، بشمول جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے، افزودہ مواد کو غیر مؤثر بنانے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی میں مداخلت نہ کرنے، کی مکمل پابندی کرے۔
دوسری جانب ایک اور امریکی عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پابندیوں میں نرمی لازماً کسی مخصوص اقدام سے مشروط نہیں بلکہ تہران کے مجموعی اور زیادہ تعمیری طرزِ عمل سے منسلک ہے، اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام واشنگٹن کی اولین ترجیح برقرار ہے۔
رپورٹوں کے مطابق، امریکا مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایران کو بعض ابتدائی رعایتیں دینے پر غور کر رہا ہے، حالانکہ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، بشمول وزیر خارجہ مارکو روبیو، یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ بنیادی مسائل کے حل تک پابندیاں ختم نہیں کی جائیں گی۔
نیویارک پوسٹ نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ پابندیوں سے استثنا کا طریقہ ٹرمپ انتظامیہ کو یہ موقع فراہم کر سکتا ہے کہ وہ بظاہر پابندیوں کا ڈھانچہ برقرار رکھتے ہوئے عملی طور پر ایران پر دباؤ میں کمی لے آئے۔
