جنگ ختم ؛ امریکہ۔ایران امن معاہدے کا اعلان – 107 دن بعد آبنائے ہرمز کھولنے پر امریکہ۔ایران میں تاریخی معاہدہ

واشنگٹن/تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم امن معاہدے پر اتفاق رائے ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمد و رفت کے لئے کھول دیا جائے گا اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اس معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام یا ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے کا کوئی واضح ذکر نہ ہونا قابلِ توجہ ہے۔

 

امریکی صدر ٹرمپ اور شہباز شریف کی جانب سے معاہدے کی تصدیق کے بعد ایران نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے نے اسے ایران کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا گیا۔

 

بعد ازاں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ نے بھی معاہدے کی توثیق کی۔ ایران کے مطابق امریکہ نے لبنان سمیت ایران کے اتحادی گروپوں کے خلاف فوجی کارروائیاں مستقل طور پر روکنے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

 

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ مفاہمتی معاہدے پر 19 جون کو دستخط کئے جائیں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لئے آخری مرحلے میں 15 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔

 

صدر ٹرمپ کے مطابق معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کے لئے کھول دیا جائے گا، جس کے بعد تیل کی ترسیل اور بارودی سرنگوں کی صفائی کا عمل شروع ہوگا۔ اس طرح تقریباً 107 دنوں سے بند آبنائے ہرمز دوبارہ فعال ہو جائے گی۔

 

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا یہ معاہدہ آئندہ 50 برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کو بدل سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تہران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کئے۔

 

دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے محتاط ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس معاہدے کو امریکی مؤقف سے مختلف انداز میں دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے تہران کے جوہری عزائم ترک کرنے کے دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *