صہیونی رژیم کو اپنے کئے کی سزا ضرور بھگتنا پڑے گا، عباس مقتدائی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب چیئرمین عباس مقتدائی نے ضاحیہ بیروت پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے اسرائیل کی اندرونی کمزوری اور خوف بھی نمایاں ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملے کے فوراً بعد اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ علاقوں کے شمالی باشندوں کو ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے خبردار کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تل ابیب اپنی ظاہری طاقت کے دعووں کے باوجود شدید تشویش اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔

مقتدائی کے مطابق اسرائیل کا یہ دعوی کہ حملہ امریکہ کی پیشگی اطلاع اور ہم آہنگی سے کیا گیا، اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ صہیونی قیادت اپنے اقدامات کے نتائج سے خائف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت ایک ایسے بحران میں گھرا ہوا ہے جہاں اس کے فوجی حملے طاقت کی علامت نہیں بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے مسائل اور زوال پذیر صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے بقول، تل ابیب جتنا زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے، اتنا ہی اپنے لیے نئی مشکلات پیدا کرتا ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے بارے میں ایران کا موقف تبدیل نہیں ہوا اور تہران کے بیانات کو دھمکی کے بجائے ایک عملی اور واضح پالیسی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں پیش آنے والے واقعات کے اثرات کا مکمل اندازہ آنے والے دنوں میں ہوگا، تاہم موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کو اپنے اقدامات کے نتائج اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *