کولم (کیرالا): کیرالا کے ضلع کولم کے سستھم کوٹا گاؤں میں واقع ایک سرکاری امداد یافتہ اسکول کی ہیڈمسٹریس کے خلاف مذہبی امتیاز کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 30 مسلم طلبہ کو ان کے مذہب کی بنیاد پر اسکول میں داخلہ دینے سے انکار کیا گیا۔
یہ شکایت ڈاکٹر سی ٹی ایپن میموریل آر ایچ ایس اسکول کی ہیڈمسٹریس کے خلاف درج کرائی گئی ہے۔ والدین اور مقامی نمائندوں کا الزام ہے کہ داخلے کے خواہش مند مسلم طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔
شکایت کے مطابق ہیڈمسٹریس نے مبینہ طور پر والدین سے کہا کہ “اس اسکول میں مسلمانوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا” اور یہ بھی کہا کہ “سفید لباس پہن کر آنے والے بچوں کو داخلہ نہیں ملے گا۔”
رپورٹس کے مطابق چکّوولی کے ایک مدرسہ سے وابستہ بچوں سمیت تقریباً 30 طلبہ نے اسکول میں داخلے کے لئے درخواست دی تھی۔
شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ اساتذہ اور پیرنٹس ٹیچرز ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کے نمائندوں کی متعدد درخواستوں کے باوجود ان بچوں کو داخلہ نہیں دیا گیا۔مزید الزام ہے کہ اسکول انتظامیہ اور ضلع تعلیمی افسر کو شکایات پیش کی گئیں، لیکن فوری طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسکول میں فی الحال پانچویں سے دسویں جماعت تک صرف 63 طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں ہائی اسکول سیکشن میں صرف ایک مسلم طالب علم شامل ہے۔
پی ٹی اے کے ایک عہدیدار نے الزام لگایا کہ اساتذہ داخلوں میں اضافے کے لیے کوششیں کر رہے تھے، کیونکہ طلبہ کی تعداد کم ہونے سے تدریسی عہدوں کے خاتمے کا خدشہ ہے، لیکن مسلم بچوں کے داخلے میں رکاوٹ ڈالی گئی۔بعض اساتذہ نے بھی دعویٰ کیا کہ ہیڈمسٹریس ماضی میں بھی اسی نوعیت کا رویہ اختیار کر چکی ہیں۔
الزامات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے شمس الدین، وزیر تعلیمِ کیرالا نے کہا کہ اگر شکایت درست ثابت ہوئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا، “کسی کو بھی کسی بچے کو تعلیم کے حق سے محروم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔”
حکام کے مطابق الزامات کی تحقیقات کرائی جا سکتی ہیں اور اگر شکایات درست ثابت ہوئیں تو ہیڈمسٹریس یا اسکول انتظامیہ کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
مقامی وکلا کے مطابق اگر کسی بیان سے مذہبی نفرت یا امتیاز کو فروغ دینے کی تصدیق ہوتی ہے تو متعلقہ دفعات کے تحت فوجداری مقدمہ بھی درج کیا جا سکتا ہے۔

