بلیٹ موٹر سائیکل کے مطالبہ پر نکاح کے 5 گھنٹے بعد طلاق – 12 گھنٹوں میں دونوں کی الگ الگ شادیاں

بارہ بنکی (اتر پردیش): اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں ایک انوکھا اور حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر بلیٹ موٹر سائیکل کے مطالبے پر نکاح کے صرف پانچ گھنٹے بعد طلاق ہو گئی۔ مزید حیرت انگیز بات یہ رہی کہ طلاق کے بعد دلہا اور دلہن دونوں نے 12 گھنٹوں کے اندر الگ الگ مقامات پر دوسری شادیاں بھی کر لیں۔

 

رپورٹس کے مطابق فتح پور تحصیل کے نالاپار دکشنی محلہ کی ایک نوجوان خاتون کا نکاح جہانگیر آباد تھانہ حدود کے سددی پور پٹی گاؤں کے رہائشی جاوید کے ساتھ طے پایا تھا۔ جمعہ کی رات تقریباً 9 بجے بارات دلہن کے گھر پہنچی اور تمام رسومات کے بعد نکاح مکمل کیا گیا۔

 

مہر کی ادائیگی کے دوران تنازعہ 

اطلاعات کے مطابق مہر کی ادائیگی کے دوران دونوں خاندانوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ دلہن کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ بعض باراتی نشے کی حالت میں تھے اور جہیز میں بلیٹ موٹر سائیکل دینے پر اصرار کر رہے تھے۔

 

عینی شاہدین کے مطابق بحث و تکرار کے دوران بعض افراد نے نازیبا زبان بھی استعمال کی، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

 

مصالحت کی کوششیں ناکام

معاملہ بڑھنے پر دلہن کے والد مقامی بلدیہ چیئرمین ارشاد احمد قمر کے پاس پہنچے۔ بعد ازاں دونوں فریقوں کے درمیان مصالحت کے لیے گاؤں کے معززین اور عوامی نمائندوں کی موجودگی میں کئی گھنٹوں تک بات چیت ہوئی، تاہم کوئی حل نہیں نکل سکا۔

 

دلہن نے سسرال جانے سے انکار کر دیا

دوسری جانب دلہن مبینہ طور پر دلہا والوں کے رویے سے ناراض ہو گئی اور اس نے سسرال جانے سے صاف انکار کر دیا۔ متعدد دور کی بات چیت کے باوجود جب معاملہ حل نہ ہو سکا تو دونوں خاندانوں نے باہمی رضامندی سے نکاح ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

 

اس طرح نکاح کے تقریباً پانچ گھنٹے بعد طلاق کی کارروائی مکمل کر لی گئی اور دلہا بارات کے ساتھ دلہن کے بغیر واپس لوٹ گیا۔

 

اگلے ہی دن دونوں کی دوسری شادیاں

مقامی ذرائع کے مطابق طلاق کے اگلے روز ہفتہ کو دلہن کی شادی فتح پور کے ایک دوسرے نوجوان سے کر دی گئی، جبکہ جاوید نے بھی بارہ بنکی کے دریا آباد علاقے میں دوسری شادی کر لی۔

 

بتایا جاتا ہے کہ دلہن کے والد پیشے سے کباڑی ہیں جبکہ جاوید سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہے۔ دونوں کا رشتہ خاندانوں کی رضامندی سے طے پایا تھا۔

 

واضح رہے کہ اس معاملے میں اب تک کسی بھی فریق نے پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *