مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز نے ایک تفصیلی رپورٹ میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مبینہ جاسوسی بحران کی نئی تفصیلات سامنے لائی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع نے اسرائیلی سرگرمیوں کے حوالے سے خطرے کی سطح کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے اضافی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے خصوصی نمائندوں، مشیروں اور اعلیٰ حکام کے ذاتی مواصلاتی ذرائع اور دفاتر تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
امریکی سکیورٹی تحقیقات کے مطابق ان سرگرمیوں کا مقصد امریکی انتظامیہ کی ایران سے متعلق حکمت عملی، مذاکراتی پالیسی اور داخلی فیصلہ سازی کے طریقۂ کار سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے نے امریکی دفاعی اداروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
اخبار نے امریکی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ان خدشات کے بعد محکمۂ دفاع اسرائیلی اہلکاروں کے ساتھ حساس معلومات کے تبادلے پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ میں امریکی دفاعی انٹیلی جنس ادارے کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں پر خفیہ نگرانی کے آلات نصب کرنے کی کوششوں کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ بعض واقعات میں مبینہ طور پر حساس مقامات اور سرکاری گاڑیوں میں نگرانی کے آلات نصب کرنے کی کوششیں ناکام بنائی گئی تھیں۔
دستاویزات کے مطابق دو ہزار چوبیس کے اواخر میں ان جاسوسی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ بعض امریکی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اہلکاروں کے ذاتی موبائل فونز کو بھی نگرانی اور معلومات کے حصول کے لیے ہدف بنایا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی جانب سے ذاتی مواصلاتی ذرائع کے استعمال، نجی سفری سہولیات پر انحصار اور روایتی حفاظتی ضابطوں سے گریز نے انہیں بیرونِ ملک نگرانی اور جاسوسی کی ممکنہ کوششوں کے لیے زیادہ حساس بنا دیا۔
واضح رہے کہ مذکورہ الزامات اور دعوے امریکی اخبار کی رپورٹ اور نامعلوم سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں، جن پر متعلقہ فریقوں کی جانب سے باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
