
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چین نے تائیوان کے مشرقی سمندری علاقوں میں خصوصی قانون نافذ کرنے کا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق یہ کارروائی ملک کی بحری خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے انجام دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین نے اس آپریشن کو جاپان اور فلپائن کے اس یکطرفہ اعلان کا ضروری جواب قرار دیا ہے جس میں دونوں ممالک نے تائیوان کے مشرق میں سمندری سرحدوں کے تعین کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ چین کے مطابق یہ اقدام اس کی علاقائی خودمختاری اور بحری حقوق کے لیے نقصان دہ ہے۔
آپریشن میں صوبہ فوجیان اور صوبہ گوانگ ڈونگ کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹیز، مشرقی بحیرۂ چین شپنگ سپورٹ سینٹر اور ایسٹ چائنا سی ریسکیو اتھارٹی سمیت متعدد ادارے شریک ہیں۔
شنہوا کے مطابق اس کارروائی کا مقصد چین کے بحری انتظامی قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا، گہرے سمندری علاقوں میں گشت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، اہم آبی گزرگاہوں میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا، سمندری آمدورفت کی حفاظت کو بہتر بنانا اور قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن بحری نظم و ضبط کو مستحکم کرنے اور حساس سمندری علاقوں میں چین کی نگرانی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
