
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: جنوبی لبنان کے تازہ ترین واقعات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ حزب اللہ نے حالیہ جنگوں کے باوجود اپنی عسکری اور آپریشنل صلاحیتوں کا اہم حصہ محفوظ رکھا ہے اور بعض میدانوں میں ایسی نئی جنگی مہارتیں حاصل کر لی ہیں جو اسرائیلی فوجی قیادت کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
اسرائیلی روزنامے یدیعوت آحارونوت کی رپورٹ، جس میں حزب اللہ کے رات کے وقت ڈرون حملوں اور دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے، لبنانی مزاحمتی قوت اور اسرائیلی فوج کے درمیان طاقت کے توازن میں رونما ہونے والی ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
صہیونی تکنیکی برتری کا بھرم ٹوٹ گیا
رپورٹ کے مطابق اسرائیل برسوں سے میدانِ جنگ میں اپنی مکمل تکنیکی اور معلوماتی برتری کا تاثر پیش کرتا رہا ہے۔ فضائی کنٹرول، معلوماتی برتری اور رات کے وقت نگرانی کی صلاحیت کو اسرائیلی فوج کی اہم طاقت سمجھا جاتا تھا، تاہم حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ اس برتری کے ایک حصے کو چیلنج کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
فوجی ماہرین کی توجہ صرف ایف پی وی ڈرونز کے استعمال پر مرکوز نہیں بلکہ اس حقیقت پر بھی ہے کہ حزب اللہ نے اس نسبتاً سادہ، کم لاگت اور مؤثر ٹیکنالوجی کو جنوبی لبنان کے جنگی ماحول کے مطابق ڈھال کر اسرائیلی افواج کو نقصان پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بنا لیا ہے۔
یدیعوت آحارونوت نے اپنی رپورٹ میں ایک اہم اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیلی فوج کا خیال تھا کہ حزب اللہ کے ایف پی وی ڈرونز حرارتی نظام سے محروم ہیں، اس لیے وہ رات کے وقت مؤثر کارروائی انجام نہیں دے سکتے۔ تاہم حالیہ حملوں نے اس اندازے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب اسرائیلی فوجی حلقوں میں یہ امکان زیرِ غور ہے کہ حزب اللہ نے اپنے ایف پی وی ڈرونز کو حرارتی حسّاس آلات یا اسی نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر لیا ہے، جس کے باعث وہ رات کے اندھیرے میں بھی مؤثر کارروائیاں انجام دینے کے قابل ہو گئے ہیں۔
صہیونی فوج کی آزادانہ کارروائیوں کا دور ختم
لبنان کی مزاحمتی قوت اسرائیلی فوج کی ایک اہم ترین حربی برتری، یعنی رات کے وقت آزادانہ کارروائی کی صلاحیت، کو چیلنج کرنے میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ دنیا کی بیشتر افواج میں رات کے وقت کارروائیاں اس لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں کہ تاریکی میں اہداف کا سراغ لگانا اور انہیں نشانہ بنانا زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ تاہم اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حزب اللہ اسی میدان میں اسرائیلی فوج کے لیے نئی رکاوٹیں اور محدودیتیں پیدا کر رہی ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا حزب اللہ کی تیز رفتار سیکھنے کی صلاحیت کا اعتراف بھی قابلِ توجہ ہے۔ عسکری اصطلاحات میں اس سے مراد کسی فریق کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ میدانِ جنگ کے تجربات سے سبق حاصل کرکے انہیں نئی عملی صلاحیتوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، حزب اللہ صرف موجودہ ساز و سامان پر انحصار نہیں کرتی بلکہ ہر مرحلے کے تجربے کو اپنی قوت میں اضافے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
یہ خصوصیت گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لبنان کی مزاحمتی قوت کی نمایاں ترین طاقتوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ 2006 کی 33 روزہ جنگ سے لے کر شام کے معرکوں اور اس کے بعد اسرائیلی رژیم کے ساتھ حالیہ محاذ آرائیوں تک، حزب اللہ نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک جامد اور غیر متحرک تحریک نہیں ہے۔ میدانِ جنگ کے تجربات تیزی سے عملی عسکری حکمت عملی میں تبدیل ہوتے ہیں اور پھر یہی حکمت عملی مزاحمت کے جنگی ڈھانچے کا حصہ بن جاتی ہے۔
حزب اللہ کی دفاعی طاقت بدستور برقرار
آج غاصب صیہونی فوج ایک ایسے فریق کا سامنا کر رہی ہے جو محض ایک روایتی مسلح گروہ نہیں۔ حزب اللہ گزشتہ برسوں کے دوران ایک ایسی منظم قوت میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے پاس معلوماتی صلاحیتوں، خصوصی کارروائیوں، برقی جنگ، ہدف شناس میزائلوں، ڈرون یونٹوں اور وسیع کمانڈ و کنٹرول نظام کا امتزاج موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کی عسکری طاقت کا اندازہ صرف افرادی قوت یا اسلحے کی تعداد کی بنیاد پر لگانا نامکمل تصویر ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ردعمل بھی موجودہ تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کو رات کے وقت اپنی نقل و حرکت محدود کرنا پڑی ہے، زیادہ حفاظتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں اور برقی جنگی نظاموں پر پہلے سے زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ نیا خطرہ صرف حربی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے اسرائیلی فوج کی عسکری حکمت عملی اور کارروائیوں کے انداز کو بھی متاثر کیا ہے۔
تزویراتی نقطۂ نظر سے اس پیش رفت کی اہمیت اس بات میں ہے کہ حزب اللہ نسبتاً کم لاگت والی ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے حریف کو قابل ذکر نقصانات پہنچائے ہیں۔ غیر متوازن جنگوں کی ایک نمایاں خصوصیت بھی یہی ہوتی ہے کہ نسبتاً کم وسائل رکھنے والا فریق جدت، منصوبہ بندی اور کم خرچ ٹیکنالوجی کے استعمال سے اپنے مخالف کی برتری کو محدود کر دیتا ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ برسوں کے دوران میزائل دفاعی نظاموں، نگرانی کے آلات اور جدید عسکری ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، لیکن اب ایسے ڈرونز، جن کی تیاری پر نسبتاً بہت کم لاگت آتی ہے، اسرائیلی فوج کے لیے ایک حقیقی چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہی وہ حکمتِ عملی ہے جس پر مزاحمتی تحریکیں ہمیشہ زور دیتی رہی ہیں؛ یعنی کم وسائل کے ذریعے دشمن پر زیادہ سے زیادہ بوجھ اور نقصان مسلط کرنا۔
سیاسی سطح پر بھی یہ پیش رفت اہم پیغامات کی حامل ہے۔ کئی ماہ تک عسکری دباؤ اور حزب اللہ کی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود اب اسرائیلی ذرائع ابلاغ خود مزاحمتی قوت کی عملی پیش رفت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اندازوں کے برعکس حزب اللہ کا عسکری ڈھانچہ اب بھی ازسرِنو تنظیم اور نئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید جنگوں میں طاقت کا ایک اہم پیمانہ بقا اور حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ بہت سی افواج اور مسلح گروہ کسی تنازعے کے آغاز میں جدید ساز و سامان رکھتے ہیں، لیکن کامیابی بالآخر انہی فریقوں کو حاصل ہوتی ہے جو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی حالیہ رپورٹس بھی حزب اللہ کے بارے میں اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں۔
مزید برآں، ایف پی وی ڈرونز کا رات کے وقت کارروائیوں میں استعمال مقبوضہ فلسطین کی شمالی سرحدوں کے سکیورٹی حالات پر طویل المدت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر اسرائیلی فوج رات کے وقت اپنی آزادانہ کارروائی کی صلاحیت کا کچھ حصہ کھو دیتی ہے تو اس کے اثرات عسکری منصوبہ بندی، فوجی نقل و حرکت اور حتی کہ اہلکاروں کے حوصلوں تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
حاصل سخن
جنوبی لبنان میں آج جو صورت حال دکھائی دے رہی ہے، وہ محض ایک ڈرون اور ایک دفاعی نظام کے درمیان مقابلہ نہیں۔ درحقیقت یہ دو مختلف جنگی نظریات اور حکمتِ عملیوں کے درمیان کشمکش کی علامت ہے۔ ایک طرف ایسی فوج ہے جو مہنگی ٹیکنالوجی اور روایتی عسکری ڈھانچوں پر انحصار کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایک مزاحمتی تحریک ہے جو جدت، لچک اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے استعمال کے ذریعے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جانب سے حزب اللہ کے ڈرون پروگرام میں پیش رفت پر تشویش کا اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لبنان کی مزاحمتی قوت اب بھی خطے کے اہم ترین فریقوں میں شمار ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ اپنی ڈیٹرنس صلاحیت کا ایک بڑا حصہ برقرار رکھنے کے ساتھ بعض شعبوں میں اسے مزید مضبوط بنانے میں بھی کامیاب رہی ہے۔
اسی وجہ سے مزاحمت کی عسکری ٹیکنالوجی میں ہونے والی ہر نئی پیش رفت کو صرف ایک حربی کامیابی نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اسے مقبوضہ فلسطین کے شمالی محاذ پر طاقت کے توازن میں رونما ہونے والی ایک وسیع تر تبدیلی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ عمل ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کے اثرات مستقبل کی سیکورٹی اور عسکری صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
