گریٹ نکوبار منصوبہ تجارتی مفادات پر مبنی، حیاتیاتی تنوع شدید خطرے سے دوچار: جے رام رمیش

جے رام رمیش اور بھوپیندر یادو کے درمیان گزشتہ چند ماہ کے دوران اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر متعدد خطوط کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ تازہ خط میں سابق مرکزی وزیر ماحولیات نے یاد دلایا کہ انہوں نے 10 مئی 2026 کو بھی ایک خط کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ گریٹ نکوبار منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیتے وقت قانون پر مکمل طور پر عمل کیا جائے، خاص طور پر اس لیے کہ مارچ 2022 کی ماحولیاتی اثرات کے جائزے کی رپورٹ میں خود اسے ابتدائی اور محدود نوعیت کا مطالعہ قرار دیا گیا تھا۔

رمیش نے اپنے خط میں کہا کہ انہیں اس بات پر اطمینان ہے کہ وزارت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ منصوبے کو دی گئی ماحولیاتی منظوری ایسے جامع مطالعات کی بنیاد پر نہیں تھی جن میں تین مختلف موسمی ادوار کے بنیادی اعداد و شمار شامل ہوتے ہیں، بلکہ دستیاب معلومات صرف ایک موسمی دور کے دوران جمع کی گئی تھیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *