مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان پیر کے روز ہونے والی فون کال ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی سب سے کشیدہ گفتگوؤں میں سے ایک تھی۔
تفصیلات کے مطابق آکسیوس نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو انتہائی تناؤ کا شکار تھی۔ تاہم ذریعے نے اختلافات یا گفتگو کے مندرجات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور صرف اتنا کہا کہ یہ حالیہ عرصے کی بدترین گفتگوؤں میں شمار ہوتی ہے۔
آکسیوس نے بعد میں اس فون کال کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا: “تم واقعی پاگل ہو، اگر میں نہ ہوتا تو آج تم جیل میں ہوتے۔”
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو سے یہ بھی کہا کہ میں تمہاری سیاسی زندگی بچا رہا ہوں، اس وقت سب تم سے نفرت کرتے ہیں اور اس معاملے کی وجہ سے سب اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
آکسیوس کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سخت سرزنش کی۔ ایک ذریعے نے دعویٰ کیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو سخت اور نامناسب الفاظ سے بھرپور تھی۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ بیروت کو دھمکیاں دینے سے اسرائیل عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔
آکسیوس کے مطابق ٹرمپ نے بدعنوانی کے مقدمات کے دوران اپنی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے میں مدد کی تھی۔
آکسیوس نے اپنی رپورٹ کے آخر میں دعویٰ کیا کہ اس فون کال میں ٹرمپ نیتن یاہو سے اپنا مؤقف منوانے میں کامیاب رہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے پیر کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹرتھ سوشل” پر ایک پیغام میں کہا کہ ان کی نیتن یاہو کے ساتھ بہت تعمیری گفتگو ہوئی ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بیروت میں کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو دستے روانہ کیے گئے تھے انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے حزب اللہ سے بھی رابطہ کیا اور وہ مکمل جنگ بندی پر آمادہ ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
