بش سے ٹرمپ تک: طاقتور کو استثنی اور کمزور غیر محفوظ، عالمی انصاف کا دوہرا معیار

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ بین الاقوامی نظام میں طاقتور ممالک اور ان کے رہنماؤں کو حاصل عملی استثنیٰ کو ماہرین طویل عرصے سے عالمی انصاف کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیتے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق جب بڑی طاقتیں جنگ، فوجی مداخلت یا ایسے اقدامات میں ملوث ہوتی ہیں جن کے نتیجے میں وسیع انسانی نقصان ہوتا ہے، لیکن انہیں کسی مؤثر قانونی یا سیاسی جوابدہی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، تو اس سے عالمی قوانین کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور مستقبل میں ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

امریکی جریدے Current Affairs نے اپنی ایک تنقیدی رپورٹ میں اسی مسئلے کو موضوع بناتے ہوئے استدلال کیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکی رہنماؤں کی عدم جوابدہی نے بین الاقوامی قانون کی حیثیت کو کمزور کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر عراق جنگ کے معماروں، بشمول سابق امریکی صدر جارج بش اور دیگر اعلیٰ حکام، کو بین الاقوامی قانون کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر جوابدہ بنایا جاتا تو بعد کے برسوں میں رونما ہونے والے بعض سانحات اور فوجی کارروائیوں کے امکانات کم ہو سکتے تھے۔

جنگ کے فیصلے، احتساب کا فقدان

رپورٹ کے مطابق اس مؤقف کی بنیاد بین الاقوامی تعلقات اور قانون کے ایک بنیادی اصول ہے جس کے تحت جب قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا ملتی ہے تو مستقبل میں ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ ماہرین کے نزدیک اگر سیاسی اور فوجی رہنما یہ یقین رکھیں کہ انہیں اپنے فیصلوں پر کسی مرحلے پر قانونی احتساب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو وہ طاقت کے استعمال کے حوالے سے زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کریں گے۔

رپورٹ میں 2003 کی عراق جنگ کو اس تناظر میں ایک نمایاں مثال قرار دیا گیا ہے۔ اس جنگ کا آغاز وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے دعووں کے ساتھ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں ایسے ہتھیاروں کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ناقدین کے مطابق اس جنگ نے عراق میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، شدت پسند گروہوں کی حوصلہ افزائی اور خطے میں طویل المدت عدم استحکام جیسے نتائج کو جنم دیا، لیکن اس کے باوجود جنگ کے اہم فیصلہ سازوں کے خلاف کوئی بین الاقوامی عدالتی کارروائی نہیں ہوئی۔

عالمی نظام کا بنیادی تضاد

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسی طرزِ عمل نے عالمی سیاست میں استثنی کی روایت کو فروغ دیا ہے، جہاں طاقتور ریاستوں کے رہنما یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے فیصلوں کے نتیجے میں بڑے انسانی نقصانات ہوں تو بھی انہیں قانونی نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس صورتِ حال میں جنگ اور طاقت کے استعمال کی اصل قیمت عام شہریوں اور متاثرہ آبادیوں کو ادا کرنا پڑتی ہے، جبکہ فیصلہ ساز خود بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

Current Affairs کی رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کی بعض فوجی پالیسیوں اور ایران کے خلاف اقدامات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بین الاقوامی قانون کو مؤثر اور معتبر بنانا مقصود ہے تو اس کا اطلاق تمام ممالک اور رہنماؤں پر یکساں ہونا چاہیے، خواہ ان کی سیاسی یا عسکری طاقت کچھ بھی ہو۔

ماہرین کے مطابق یہی مسئلہ موجودہ عالمی نظام کے ایک بنیادی تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔ مغربی ممالک اکثر انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور جوابدہی کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ان ہی اصولوں کا اطلاق اپنے اتحادیوں یا اپنے رہنماؤں پر کرنے کی بات آتی ہے تو سیاسی مصلحتیں غالب آجاتی ہیں۔ اس دوہرے معیار نے کئی ممالک میں بین الاقوامی اداروں اور قانونی نظام پر اعتماد کو متاثر کیا ہے۔

نورنبرگ سے موجودہ عالمی نظام تک

تاریخی طور پر دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہونے والے نورنبرگ اور ٹوکیو ٹرائلز کو بین الاقوامی جوابدہی کی اہم مثالوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان عدالتی کارروائیوں کا مقصد نہ صرف جنگی جرائم کے ذمہ دار افراد کو سزا دینا تھا بلکہ یہ پیغام دینا بھی تھا کہ کوئی بھی سیاسی یا فوجی شخصیت قانون سے بالاتر نہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہی اصول مستقل اور غیر امتیازی بنیادوں پر نافذ کیے جائیں تو عالمی سطح پر جنگوں اور انسانی المیوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اصل چیلنج صرف ماضی کے تنازعات کا جائزہ لینا نہیں بلکہ ایسا عالمی نظام قائم کرنا ہے جس میں طاقتور اور کمزور ریاستوں کے لیے قانون کے معیار یکساں ہوں، تاکہ مستقبل میں جنگ اور طاقت کے استعمال کو واقعی ایک مہنگا اور جوابدہی سے مشروط فیصلہ بنایا جا سکے۔

تاہم بعد کی دہائیوں میں اس اصول کے نفاذ پر طاقت کی سیاست گہرے اثرات مرتب کرتی رہی۔ متعدد مواقع پر کمزور یا شکست خوردہ ممالک کے رہنماؤں کو عدالتوں کے کٹہرے میں لایا گیا، لیکن بڑی طاقتوں کے قائدین عملاً ہر قسم کی قانونی کارروائی سے محفوظ رہے۔ اسی دوہرے معیار نے بین الاقوامی انصاف کے بنیادی تصور اور اس کے جواز کو سنگین چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔

میناب کے اسکول پر حملہ اور معصوم طالبات کی شہادت محض ایک مخصوص علاقے میں پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس عالمی نظام کی علامت ہے جس میں قانون کے بجائے طاقت کو فوقیت حاصل ہو چکی ہے۔ جب قانونی ضابطے شہری آبادی کے تحفظ میں ناکام ہو جائیں اور حملوں کے ذمہ دار عناصر اپنے لیے مکمل استثنی محسوس کریں، تو اس کے سب سے بڑے متاثرین وہ بچے، خواتین اور عام شہری بنتے ہیں جن کا سیاسی یا عسکری فیصلوں میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔

اسی تناظر میں یہ جملہ کہ ’’میناب کی بچیاں آج زندہ ہوتیں اگر بش کا احتساب کیا گیا ہوتا‘‘ ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر عالمی برادری ماضی کی جنگوں کے بارے میں زیادہ مضبوط اور غیر جانب دار مؤقف اختیار کرتی، اگر جارحیت اور جنگی جرائم کے ذمہ دار افراد کو ان کی قومیت یا طاقت سے قطع نظر انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا، اور اگر بین الاقوامی قانون واقعی انصاف کے نفاذ کا مؤثر ذریعہ بن جاتا، تو ممکن ہے کہ آج کے بہت سے سانحات کبھی رونما ہی نہ ہوتے۔

حاصل سخن

یقیناً صرف جوابدہی ہی دنیا سے جنگوں کا مکمل خاتمہ نہیں کر سکتی، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ جنگوں اور انسانی المیوں کی تکرار روکنے کے مؤثر ترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ انصاف اسی وقت حقیقی معنوں میں انصاف کہلاتا ہے جب سب افراد اور تمام ریاستیں اس کے سامنے برابر ہوں۔ اگر طاقتور ممالک کے رہنما بھی یہ جان لیں کہ انہیں چھوٹے ممالک کے رہنماؤں کی طرح اپنے فیصلوں اور اقدامات کا جواب دینا ہوگا، تو ان کے سیاسی اور عسکری حساب کتاب میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے اور طاقت کے استعمال کا رجحان کم ہو سکتا ہے۔

آج بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ پہلے سے کہیں زیادہ اس سوال سے وابستہ ہے کہ آیا قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہوگا یا نہیں۔ اگر اس سوال کا جواب نفی میں رہا تو دنیا جنگوں، بحرانوں اور نئے انسانی المیوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا سامنا کرتی رہے گی۔ لیکن اگر جوابدہی کے اصول کو بلاامتیاز اور غیر جانب دارانہ انداز میں نافذ کیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ میناب جیسے سانحات مستقبل میں دوبارہ رونما نہ ہوں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *