مغربی دباؤ مسترد، ایران کا آبنائے ہرمز کے مستقبل کے لیے عمان کے ساتھ نئے انتظامات کا اعلان

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے مغربی ممالک کی دھمکی اور دباؤ کو مسترد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مغربی ممالک کی جانب سے دباؤ اور دھمکی آمیز زبان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور حقوق کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام و انصرام کے لیے ایران اور عمان مشترکہ طریقہ کار تشکیل دیں گے۔

سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے ایران کو یہ کرنا چاہیے یا ایسا کرنا ہوگا جیسی زبان ناقابل قبول ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی پالیسیوں کا تعین صرف اپنے قومی مفادات اور عوام کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے۔

بقائی نے امریکی بحری ناکہ بندی کو سرے سے ہی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی جہازرانی کی آزادی میں رکاوٹ تھی۔ اگر امریکہ اس ناکہ بندی کو ختم کرتا ہے تو یہ کسی رعایت کے مترادف نہیں بلکہ ایک غیر قانونی اقدام کا خاتمہ ہوگا جسے سرے سے نافذ ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یکم مارچ سے آبنائے ہرمز ایران کے خصوصی انتظامی اقدامات کے تحت کام کر رہی ہے اور تجارتی جہاز ایرانی حکام سے رابطے کے بعد ہی گزر رہے ہیں۔ ایران اور عمان، جو اس اہم آبی گزرگاہ کے ساحلی ممالک ہیں، خطے کی سلامتی، قومی مفادات اور عالمی جہازرانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ میکنزم قائم کریں گے۔

ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر سے متعلق بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران کی توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور افزودگی یا یورینیم کے ذخائر کی تفصیلات پر بات کرنا ترجیح نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ غیر معمولی حالات کے تجربات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ایران و عمان کی جانب سے وضع کیے جانے والے تمام انتظامات قومی سلامتی اور بین الاقوامی جہازرانی کے تحفظ دونوں مقاصد کو بیک وقت پورا کریں گے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *