انہوں نے کہا کہ گائے کے نام پر ہجومی تشدد، بے قصور انسانوں کا قتل، نفرت کی سیاست اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر گائے کو قومی جانور قرار دے کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تو نہ انسانی جانوں کا نقصان ہوگا اور نہ مذہب کے نام پر سیاست کو فروغ ملے گا۔
ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ ملک کے بعض صوبوں میں کھلے عام گائے کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے، لیکن وہاں نہ اس کے خلاف احتجاج دیکھنے کو ملتا ہے اور نہ ہی ہجومی تشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ان کے مطابق جن علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے وہاں گائے کے نام پر خون خرابہ ہوتا ہے، جو ان کے مطابق عقیدت نہیں بلکہ دوہرے معیار اور سیاسی کھیل کی علامت ہے۔
