
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران پر جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دباؤ اور دھمکی کے سامنے ایران کبھی بھی نہیں جھکے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائے گی اور ایران سے متعلق کسی بھی مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایران دو مرتبہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی اور وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا۔ ان حملوں کو ایسے الزامات کے ذریعے جائز قرار دینے کی کوشش کی گئی جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور خود امریکی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس سے بھی مطابقت نہیں رکھتے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران ایک خودمختار ملک ہے جو غیر قانونی توسیع پسندی اور جنگی مہم جوئی کا شکار ہوا ہے، جبکہ اس طرح کے اقدامات موجودہ عالمی نظام میں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ خطے میں عدم استحکام کسی ایک فریق نہیں بلکہ تمام ممالک کے لیے نقصان دہ ہے، حتی کہ ان قوتوں کے لیے بھی جو ایسی پالیسیوں کو آگے بڑھاتی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ شدید حملوں اور دباؤ کے باوجود ایرانی عوام نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اپنی آزادی اور خودمختاری کے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے رہنما اور عوام ہمیشہ انصاف، آزادی اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے کھڑے رہے ہیں اور اس راستے میں قربانیاں بھی دی ہیں۔
انہوں نے ایرانی معاشرے کے مختلف طبقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج، طبی عملہ، اساتذہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کو اپنی ذاتی سلامتی پر ترجیح دی اور مشکل حالات میں بھی انسانیت کی خدمت جاری رکھی۔
عراقچی نے کہا کہ ایرانی عوام نے شدید بمباری اور جنگی حالات کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے ان ماؤں اور نوجوانوں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانی کے باوجود حوصلہ نہیں کھویا اور مستقبل کے لیے امید برقرار رکھی۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ایران کو دبایا نہیں جا سکتا اور جب بھی ایران پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تو وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور متحد ہو کر سامنے آتا ہے۔ ایران ایک طرف اپنی سرزمین اور آزادی کے دفاع کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف سفارت کاری کے راستے کو بھی سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی بیرونی جارحیت کا سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ایرانی عوام جنگ کے خواہاں نہیں اور امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایران جارح نہیں بلکہ جارحیت کا شکار ملک ہے۔
عراقچی نے برکس کو ابھرتے ہوئے عالمی نظام کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی جنوب اب دنیا کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے، تاہم اس نئے نظام کو مختلف چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض مغربی طاقتیں اپنے زوال کو روکنے کے لیے جارحانہ ردعمل اختیار کر رہی ہیں اور مختلف خطوں میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ایسے واقعات دیکھے جا سکتے ہیں جہاں جنگوں، خودمختاری کی خلاف ورزیوں اور انسانی المیوں کے باوجود مغربی ممالک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال اس غلط احساس برتری اور استثنیٰ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے بریکس ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور ایران کے خلاف جارحیت کی واضح مذمت کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برکس ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے جو زیادہ منصفانہ، متوازن اور انسانی اصولوں پر مبنی ہو، جہاں طاقت کو حق پر فوقیت حاصل نہ ہو۔
عراقچی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ جو قومیں اپنی عزت اور آزادی کے لیے کھڑی ہوتی ہیں وہ مشکلات کا سامنا ضرور کرتی ہیں، مگر شکست نہیں کھاتیں۔
