بنڈی سنجے کے بیٹے کے پوکسو کیس پر کے ٹی آر کا بڑا حملہ — کیا مرکزی وزیر کے بیٹے کے لئے قانون الگ ہے؟

بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے کمار کے بیٹے سائی بھگیرتھ سے متعلق سامنے آئے پوکسو معاملہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت، پولیس اور بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

 

اپنے بیان میں کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ’’آخر ہم کس خوفناک اور اندھیری صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں کہ ایک 17 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی  اور اس کے خاندان کو ایف آئی آر درج کروانے کے لیے تین ماہ تک در در بھٹکنا پڑا۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ متاثرہ لڑکی اور اس کے گھر والوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے اور مرکزی وزیر کے بیٹے کے خلاف دیگر پوکسو ملزمین کی طرح فوری کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

 

کے ٹی آر نے کہا کہ متاثرہ نابالغ لڑکی انصاف نہ ملنے کے باعث دو مرتبہ خودکشی کی کوشش کر چکی ہے، اس کے باوجود اب اسی لڑکی کو بدنام کرنے اور اس پر الزامات عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ پولیس سے سوال کیا کہ آخر ایک نابالغ لڑکی کے خلاف ’’ہنی ٹریپ‘‘ اور بھتہ خوری کا مقدمہ کس قانون کے تحت درج کیا گیا۔

 

انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ صرف ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے؟‘‘ کے ٹی آر نے سوال کیا کہ مرکزی وزیر کے بیٹے کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی اور کیا اسے خصوصی رعایت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ بنڈی سنجے کب استعفیٰ دیں گے یا انہیں مرکزی وزارت سے ہٹایا جائے گا۔

 

بی آر ایس قائد نے کانگریس حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو جواب دینا چاہئے کہ تلنگانہ میں آخر کس قسم کی حکمرانی چل رہی ہے، جہاں تمام ثبوت ہونے کے باوجود پولیس نے فوری کارروائی نہیں کی بلکہ متاثرہ لڑکی کے خلاف ہی جوابی مقدمہ درج کر لیا۔

 

کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ آیا کانگریس اور بی جے پی کے درمیان کسی خفیہ مفاہمت کے تحت اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے وقار اور انصاف کے تحفظ کے لئے بی آر ایس ہمیشہ آواز اٹھاتی رہے گی اور اگر ضرورت پڑی تو ایسی لڑائی ہزاروں مرتبہ لڑی جائے گی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *