سنجے راؤت نے کہا کہ ’’اس بدعنوان شخص (سویندو) کے اوپر ای ڈی کی چھاپہ مار کارروائیاں ہوئیں، پھر یہ عظیم شخص بی جے پی میں شامل ہو گیا اور آج اُسے مغربی بنگال کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا ہے۔


i
شیوسینا یو بی ٹی لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ کے طور پر سویندو ادھیکاری کی حلف برداری کے بعد بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مبارکباد کی مستحق ہے، کیونکہ وہ اپنی روایت کبھی نہیں توڑتی۔ روایت برقرار رکھنے میں اُن کا ہاتھ کوئی نہیں پکڑ سکتا۔ بیان طنزیہ تھا، کیونکہ ان کے مطابق سویندو ادھیکاری بدعنوان ہیں اور بدعنوانوں کو وزیر اعلیٰ بنانا بی جے پی کی روایت رہی ہے۔
سنجے راؤت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’حیرت کی بات ہے، انہی سویندو ادھیکاری کے خلاف بی جے پی کے لوگوں نے ایک بڑی مہم چلائی تھی۔ انہیں آن کیمرا رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا تھا، آن کیمرا! اور اس وقت پوری بی جے پی کے ٹوئٹر ہینڈل اور سوشل میڈیا پر مہینوں تک صرف سویندو ادھیکاری ہی چل رہے تھے کہ سویندو کتنے بدعنوان شخص ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اس بدعنوان شخص (سویندو) کے اوپر ای ڈی کی چھاپہ مار کارروائیاں ہوئیں، پھر یہ عظیم شخص بی جے پی میں شامل ہو گیا اور آج اسے مغربی بنگال کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا ہے۔ اس طرح ایک بدعنوان شخص کو وزیر اعلیٰ بنانے کی بی جے پی کی جو روایت ہے، وہ بھی باہر سے آنے والے شخص کو، بی جے پی نے اپنی اس روایت کو پوری طرح برقرار رکھا ہے۔ اور اس کے لیے میں انہیں بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔‘‘
شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے تمل ناڈو کی سیاست پر بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سیاست میں ایسا ہوتا ہے، تمل ناڈو کی سیاست بہت چنچل ہے۔ بہت ہی چنچل ہے۔ اب بات ایسی ہے کہ اسٹالن صاحب (ایم کے اسٹالن) سے راہل گاندھی نے اس بارے میں کھل کر بات کی ہے کہ این ڈی اے کی حکومت کو روکنے کے لیے ہمیں یہ فیصلہ لینا پڑے گا اور آپ بھی اس میں شامل ہو جائیے۔ مجھے لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ یہ معاملہ سلجھ جائے گا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ تمل ناڈو میں کافی پس و پیش کے بعد حکومت سازی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ وجئے نے آج شام ایک بار پھر گورنر راجندر آرلیکر سے ملاقات کر حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا، اور انھیں اس کی منظوری بھی مل گئی۔ 10 مئی کی صبح 10 بجے حلف برداری تقریب کا انعقاد ہوگا، جس میں وجئے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیں گے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

