ایران مخالف قرارداد میں بحران کی اصل وجوہات کو نظر انداز کیا گیا ہے، روس

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں روسی نمائندے نے سلامتی کونسل میں کشیدگی بڑھانے والی قراردادوں کی منظوری کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کونسل کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مشرق وسطی میں تناؤ میں اضافے کا سبب بنیں۔

روسی نمائندے نے کہا کہ یکطرفہ مسودے خطے میں کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دے سکتے ہیں، جبکہ خلیج فارس میں جہازرانی کی سلامتی کی بحالی بھی صرف تنازع اور بحرانوں کے خاتمے سے ممکن ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ روس نے سلامتی کونسل میں پیش کیے گئے مسودہ قرارداد کے حوالے سے اپنے بنیادی مؤقف اور اہم تحفظات کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں روسی نمائندے نے تاکید کی کہ روس ان کوششوں کی حمایت نہیں کرے گا جن کے تحت ایران کے خلاف غیر متوازن اور جانبدارانہ زبان شامل کی جارہی ہے، جبکہ بحران کی اصل وجوہات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

نمائندے نے مزید بتایا کہ روس اور چین نے 7 اپریل کو آبنائے ہرمز سے متعلق ایک مسودہ قرارداد کو منظور ہونے سے روک کر اس کے بدلے ایک متبادل مسودہ پیش کیا تھا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *