’چور-چور، ٹی ایم سی چور‘، انڈیگو فلائٹ میں مہوا موئترا کو دیکھ کر کچھ لوگوں نے لگایا نعرہ، شکایت درج

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ یہ واقعہ انڈیگو کی فلائٹ ’6 ای 719‘ میں پیش آیا۔

<div class="paragraphs"><p>مہوا موئترا (فائل)/ آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>مہوا موئترا (فائل)/ آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

ترنمول کانگریس کی لوک سبھا رکن مہوا موئترا نے جمعرات کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) میں ایک شکایت درج کرائی۔ شکایت میں انہوں نے کہا کہ دفاع سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کے لیے دہلی جاتے وقت انڈیگو کی پرواز میں کچھ لوگوں نے انہیں ہراساں کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ واقعہ انڈیگو کی فلائٹ ’6 ای 719‘ میں پیش آیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلائٹ کے لینڈ کرتے ہی اور دروازہ کھلنے سے عین قبل کئی لوگوں نے انہیں دیکھ کر نعرے بازی کی اور اس واقعے کی ویڈیو بھی بنائی۔

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کی جانب سے شیئر کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انہیں دیکھ کر کچھ لوگوں نے ’چور-چور، ٹی ایم سی چور‘، ’پشی چور، بھائیپو چور‘ کے نعرے لگائے۔ دراصل یہ نعرے ٹی ایم سی چیف ممتا بنرجی اور ان کے بھتیجے ابھشیک بنرجی کے خلاف تھے۔ مہوا موئترا نے اس واقعہ کو ہراسانی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے طیارہ میں ان کی سلامتی متاثر ہوئی۔

ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں مہوا موئترا نے بتایا کہ یہ کوئی عوامی غصہ نہیں ہے۔ یہ ہراسانی ہے اور طیارے میں میری سلامتی کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی صورت میں یہ بدمعاش طیارے کے اندر اس طرح کی ہراسانی کر کے بچ نہیں سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بی جے پی کی ثقافت ہے۔ اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ موئترا نے کہا کہ انہوں نے پہلے اس معاملے کو نظر انداز کر دیا اور پارلیمانی میٹنگ میں حصہ لیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھنے کے بعد انہوں نے اس واقعہ کے بارے میں عوامی طور پر بولنے کا فیصلہ کیا۔

ڈی جی سی اے کو دی گئی اپنی شکایت میں ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے الزام لگایا کہ شرارتی عناصر نے میری سیاسی وابستگی کی وجہ سے مجھے ڈرانے اور ذلیل کرنے کے مقصد سے مسلسل اور تیز آواز سے نعرے بازی کی۔ امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس معاملے کی جانچ شروع ہوگی اور ضروری کارروائی بھی دیکھنے کو ملے گی۔ حالانکہ اس بارے میں فی الحال ڈی جی سی اے کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *