غزہ، پہلا مرحلہ نافذ کیے بغیر دوسرے مرحلے کی بات بے معنی ہے، رہنما حماس

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے اعلی رہنما خلیل الحیہ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں جس طرح فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس سے واضح ہے کہ پورا فلسطینی عوام اسرائیلی جارحیت کی زد میں ہیں۔

انہوں نے عزام الحیہ اور دیگر فلسطینیوں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ہر شخص خطرے سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کسی بھی معاہدے یا فیصلے کا پابند نہیں رہا، جس کے باعث مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ان کے بقول شرم الشیخ معاہدے پر عمل درآمد میں اسرائیلی ٹال مٹول نے مذاکراتی عمل کو روک دیا ہے، جبکہ ضامن اور ثالث ممالک کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔

خلیل الحیہ نے کہا کہ حماس نے گزشتہ عرصے میں کئی تجاویز پیش کیں اور اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں، لیکن اسرائیلی فریق نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اب بھی اپنے سابقہ مؤقف پر قائم ہے اور معاہدے کی شرائط نافذ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، اسی وجہ سے دوسرے مرحلے کی طرف پیش رفت نہیں ہوسکی۔

انہوں نے غزہ میں ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے داخلے میں رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب اس کمیٹی کو داخلے کی اجازت ہی نہیں دی جا رہی تو دوسرے مرحلے کی بات کرنا بے معنی ہے۔

حماس رہنما نے کہا کہ ثالثی کرنے والے ممالک معاہدے کے اصل ضامن ہیں اور اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم اسرائیل اب بھی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈال کر معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

خلیل الحیہ نے زور دے کر کہا کہ حماس جنگ بندی کے تسلسل، غزہ کی تعمیر نو کے آغاز اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی خواہاں ہے، اور اگر معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل ہو جائے تو تنظیم دوسرے مرحلے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *