جانوروں کے اعضاء سے انسانی جان بچانے کی تیاری — حیدرآباد میں انقلابی میڈیکل ریسرچ کا آغاز

حیدراباد – 7مئی ( اسپیشل اسٹوری )ہندوستان میں میں دل، گردوں اور جگر کی خرابی میں مبتلا مریض عطیہ دہندگان کے انتظار میں برسوں گزار رہے ہیں۔ وقت پر اعضاء نہ ملنے کے باعث ہر سال ہزاروں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پری کلینیکل ریسرچ  ادارہ اہم اقدامات کر رہا ہے اور ہندوستان میں جینیاتی ٹرانسپلانٹیشن (Xenotransplantation) ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت جانوروں کے اعضاء انسانوں میں منتقل کئے جا سکیں گے۔

 

نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پری کلینیکل ریسرچ (NIPCR) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مکیش کمار گپتا نے ایناڈو کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ادارہ اس سمت میں عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں کے اعضاء اور بافتوں کو انسانوں میں منتقل کرنے کے عمل کو جینیاتی ٹرانسپلانٹیشن کہا جاتا ہے، جس سے عطیہ دہندگان کے ملنے تک مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ امریکہ اور چین جیسے ممالک میں پہلے ہی خنزیر کے دل اور گردے انسانوں میں منتقل کر کے ابتدائی کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں بھی جینیاتی ٹرانسپلانٹیشن کے لئے ایک ریسرچ سینٹر قائم کیا جا رہا ہے، جس کے لئے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں خلیاتی سطح پر تفصیلی تحقیق ہوگی، دوسرے مرحلہ میں ٹشوز کی منتقلی پر کام کیا جائے گا، جبکہ تیسرے مرحلہ میں مکمل اعضاء کی پیوند کاری کی جائے گی۔ ادارے کا مقصد دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے علاج کے لئے کم از کم دو انقلابی ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے۔

 

ڈاکٹر گپتا نے مزید بتایا کہ ادارہ کینسر کے جدید علاج پر بھی کام کر رہا ہے۔ آئی آئی ٹی بمبئی اور آئی سی ایم آر نے مل کر بلڈ کینسر کے لئے CAR-T سیل تھراپی تیار کی ہے، جو امریکہ کے مقابلہ میں بہت کم لاگت میں دستیاب ہے اور بعض مریضوں میں 95 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ یہ علاج اب ممبئی کے ایک اسپتال میں دستیاب ہے اور اس پر مزید تحقیق جاری ہے۔

 

اس کے علاوہ ٹھوس رسولیوں (Solid Tumors) کے علاج کے لیے CAR-NK سیل تھراپی اور دیگر اقسام کے کینسر کے لئے نئی تھراپیز پر بھی تحقیق جاری ہے۔ آٹو امیون بیماریوں کے علاج کے لیے بھی جدید طریقے تیار کئے جا رہے ہیں۔ جانوروں کے لئے منہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین پر بھی کام ہو رہا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ تحقیق میں جانوروں کے استعمال کے لیے 3R اصول اپنایا جاتا ہے:

پہلا ریپلیسمنٹ، یعنی جہاں ممکن ہو جانوروں کے بجائے متبادل طریقہ استعمال کئے جائیں۔

دوسرا ریڈکشن، یعنی کم سے کم جانور استعمال کئے جائیں۔

تیسرا ریفائنمنٹ، یعنی جانوروں کو کم سے کم تکلیف دی جائے۔

 

ڈاکٹر گپتا کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے جانوروں پر غیر ضروری تجربات کم کئے جا سکتے ہیں، جس پر بھی تحقیق جاری ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ کوووڈ کے دوران تحقیق کے لئے جانوروں کی درآمد کی ضرورت پیش آئی تھی، لیکن اب ہندوستان میں چوہے، خرگوش، بندر، گنی پگ، بیگل کتے اور گھوڑے سمیت مختلف لیبارٹری جانور دستیاب ہیں۔ فیرٹس کو بھی درآمد کرکے ملک میں پہلی بار ان کی بریڈنگ شروع کی جا رہی ہے، جس سے مستقبل میں ویکسین کی جانچ کم وقت اور کم لاگت میں ممکن ہوگی۔

 

یہ ادارہ 2022 میں حیدرآباد کے جینوم ویلی میں 100 ایکڑ رقبہ پر قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت اس کا چوتھا یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر مکیش کمار گپتا 2023 سے اس کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ ادارہ پہلے صرف جانور فراہم کرنے والا مرکز تھا، لیکن اب یہ پری کلینیکل تحقیق میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی تحقیق کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس وقت 27 مختلف تحقیقی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *