حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سید احمد محی الدین کو ایک مبینہ آئی ایس آئی ایس سے منسلک بایو ٹیرر سازش کیس میں مرکزی ملزم قرار دیا گیا تھا جس میں این آئی اے نے تین افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے مطابق یہ کیس عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر لوگوں کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی سے متعلق ہے، جس میں ملزمان پر غیر ملکی ہینڈلرز کے رابطے میں رہ کر سرگرم نیٹ ورک چلانے کا الزام ہے۔
یہ چارج شیٹ احمد آباد (گجرات) کی خصوصی عدالت میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے)، بھارتی فوجداری قوانین اور آرمس ایکٹ کے تحت دائر کی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر سید احمد محی الدین کے ساتھ اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے آزاد اور محمد سہیل بھی اس کیس میں نامزد ہیں۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ افراد مبینہ طور پر نوجوانوں کو متاثر کر کے شدت پسندی کی طرف مائل کرنے اور غیر قانونی اسلحہ و خطرناک مواد کے ذریعہ حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔
تحقیقات میں یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمین مبینہ طور پر “ریسین” نامی انتہائی زہریلا مادہ تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جو کاسٹر کے بیجوں سے حاصل ہونے والا خطرناک کیمیکل ہے، اور اسے عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔
کیس کا آغاز نومبر 2025 میں گجرات اینٹی ٹیررزم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کی کارروائی سے ہوا تھا، جب مرکزی ملزم کو ٹول پلازہ پر گرفتار کیا گیا اور اس کی گاڑی سے مشتبہ مواد اور اسلحہ برآمد ہوا۔ بعد ازاں دیگر دو ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔
این آئی اے کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر غیر ملکی ہینڈلر کے وعدے پر جنوبی ایشیا میں “آئی ایس آئی ایس امیر” بننے کی خواہش کے تحت اس منصوبے میں شمولیت اختیار کی اور حیدرآباد میں اپنے گھر کو خفیہ لیبارٹری میں تبدیل کیا۔
تحقیقات میں مزید بتایا گیا ہے کہ دیگر دو ملزمان نے فنڈنگ، اسلحہ کی ترسیل، ریکی اور رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ایک ملزم کو نیٹ ورک کا مرکزی رابطہ کار قرار دیا گیا ہے۔
این آئی اے نے کہا ہے کہ اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس مبینہ نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد اور بیرونی ہینڈلرز کو سامنے لایا جا سکے۔
