
حیدرآباد: شاد نگر اور مکتھل کے جنگلاتی علاقوں میں ایئر گنس کے ذریعے جنگلی جانوروں کے غیر قانونی شکار میں ملوث ایک 6 رکنی گروہ کو کمشنر ٹاسک فورس (گولکنڈہ زون) اور محکمہ جنگلات کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کر لیا گیا
پولیس نے ملزمین کے قبضے سے چار ایئر گنس، ایک لائسنس یافتہ اسپورٹنگ رائفل 20 کارتوس، ایک اسکارپیو گاڑی، 8 موبائل فونس ضبط کیے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 8 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ گرفتار ملزمین میں 1. محمد مظفر حسین عرف گڈو (42)، پرندوں کا کاروبار، علیجا کوٹلہ، حیدرآباد
2. میر احمد امیر (27)، شوٹر اور طالب علم، جٹچرلہ3. عبداللہ بن سہین (27)، آپٹیکل شاپ، چارمینار، حیدرآباد4. سعود بن محمد بلاب (41)، آپٹیکل شاپ، مغل پورہ، حیدرآباد5. مسعود بن محمد (43)، ریپیڈو ڈرائیور، حیدرآباد6. کے شیکھر (38)، کسان، مستی پلی، مکتل (جانوروں کی اطلاع دینے والا) شامل ہیں۔پولیس کے مطابق یہ تمام ملزمان آپس میں قریبی ساتھی ہیں جبکہ میر احمد امیر تلنگانہ رائفل ایسوسی ایشن کا شوٹر ہے
اور کاولی شیکھر جنگل میں جانوروں کی موجودگی کی اطلاع دے کر رہنمائی کرتا تھا، مرکزی ملزم مظفر حسین اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسکارپیو گاڑی کے ذریعے جنگلات میں جا کر ایئر گنس سے ہرن، مور، خرگوش، بٹیر اور کبوتروں کا شکار کرتا تھا اور ان کا گوشت کھاتے تھے گزشتہ ایک سال کے دوران ملزمین نے متعدد بار شکار کیا
اور اس کی ویڈیوس بھی مظفر کے موبائل فون میں ریکارڈ کیں جبکہ جانوروں کی کھال، سر اور دیگر باقیات جورالا بیک واٹرس نہر میں پھینک دیتے تھے پولیس نے ملزمین کے خلاف وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں مزید کارروائی کے لیے فاریسٹ رینج آفیسر حیدرآباد
ایسٹ رینج کے حوالے کر دیا ہے یہ کارروائی ایڈیشنل ڈی سی پی اندے سرینواس راؤ کی نگرانی میں گولکنڈہ ٹاسک فورس ٹیم نے انجام دی۔

جنگلی جانوروں کا شکار ۔ حیدرآباد میں ٹولی گرفتار
