
مہر خبررساں ایجنسی بین الاقوامی ڈیسک: عراق کے وزیر اعظم کے طور پر علی الزیدی کی تقرری ایک فیصلہ کن سیاسی لمحہ ہے جو روایتی حکومتی تبدیلیوں سے آگے بڑھ کر قومی خودمختاری اور منظم علاقائی تعاون کی بنیاد پر خطے میں طاقت کے توازن کو ازسرنو ترتیب دینے میں مدد دے سکتی ہے۔
عراق کے امور کے سینئر ماہر سبطین الجبوری نے ایک مضمون میں کہا ہے کہ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ عراق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں وہ بیرونی دباؤ اور مسلط کردہ پالیسیوں سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، جنہوں نے برسوں تک حکومتی استحکام اور علاقائی تعلقات کو متاثر کیا۔
قومی ارادے کی کامیابی اور خودمختار فیصلوں کا استحکام
علی الزیدی کا اقتدار میں آنا ایسے سیاسی اتفاق رائے کا نتیجہ ہے جس میں وہ قوتیں شامل ہیں جو ایک ایسی حکومت چاہتی ہیں جو بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکے اور ساتھ ہی گزشتہ برسوں میں عوامی اور قومی قربانیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو محفوظ رکھے۔
الزیدی کا انتخاب کوئی عارضی سمجھوتہ نہیں تھا بلکہ اس یقین کے تحت کیا گیا کہ قیادت ایسے فرد کے پاس ہونی چاہیے جو عراق کی تزویراتی اہمیت کو سمجھتا ہو اور علاقائی سلامتی کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھتا ہو۔
سیاسی حلقوں میں الزیدی کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے جو عراق کو مغربی پالیسیوں پر دوبارہ انحصار سے روک سکتی ہے۔ ان کا سیاسی اور پیشہ ورانہ پس منظر اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ وہ قومی خودمختاری کے استحکام اور علاقائی شراکت داری کے فروغ پر مبنی پالیسی اختیار کریں گے۔
وسیع علاقائی ہم آہنگی؛ نئی حکومت کا وژن
متوقع طور پر الزیدی حکومت کی سیاسی حکمت عملی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کو ترجیح دے گی۔ اس نقطہ نظر کے مطابق عراق کا استحکام براہ راست اس کے علاقائی ماحول کے استحکام سے جڑا ہوا ہے۔
اس وژن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
قومی طاقت کے توازن کا استحکام: مستقبل کی عراقی حکومت ان سکیورٹی اور عوامی اداروں کو خاص اہمیت دے گی جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران تشکیل پائے، اور انہیں قومی خودمختاری کے تحفظ اور بیرونی مداخلت کی روک تھام کا اہم ستون سمجھے گی۔
معاشی ڈھانچے کی تشکیل جس میں بیرونی دباؤ کم ہو: الزیدی حکومت کا معاشی وژن تجارتی شراکت داریوں میں تنوع، علاقائی اقتصادی راہداریوں کے فروغ، اور توانائی کے تبادلے سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاشی تعاون کو بڑھانے پر مرکوز ہوگا تاکہ بین الاقوامی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
برابری پر مبنی سفارتکاری: نئی حکومت کے سیاسی بیانیے میں غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو ازسرنو متعین کرنے کی خواہش ظاہر ہوتی ہے، جس میں عراق کی خودمختاری کے احترام پر زور اور کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کو مسترد کرنا شامل ہے، جسے کشیدگی اور عدم استحکام کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔
داخلی و خارجی چیلنجز
اگرچہ الزیدی کی تقرری نے عراق میں سیاسی جوش و خروش پیدا کیا ہے، تاہم آنے والا مرحلہ چیلنجز سے خالی نہیں ہوگا۔ خاص طور پر وہ داخلی قوتیں جو بیرونی مفادات سے جڑی ہیں، ممکن ہے سیاسی یا معاشی بحران پیدا کریں۔
تاہم بااثر سیاسی و عوامی حلقوں کی حمایت اور علاقائی پشت پناہی الزیدی کے لیے ایک محفوظ دائرہ فراہم کر سکتی ہے، جو حکومت کے استحکام اور اس کے سیاسی پروگرام کے نفاذ میں مددگار ثابت ہوگی۔
حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ریاستی اداروں کی آزادانہ بنیادوں پر ازسرنو تشکیل، قومی نظم و نسق کو مضبوط بنانا، اور ترقی کے ایسے راستے کھولنا ہے جو علاقائی تعاون سے جڑے ہوں، نہ کہ روایتی بین الاقوامی دباؤ کے تابع ہوں۔
عراق ایک نئے مرحلے کے دہانے پر
مجموعی طور پر علی الزیدی کی تقرری عراق میں ایک گہری سیاسی تبدیلی کی علامت ہے، جس کا مرکز قومی فیصلوں کا استحکام اور علاقائی تعاون پر مبنی ایک نئے منصوبے کی جانب پیش رفت ہے۔ اگر نئی حکومت اس وژن کو عملی پالیسیوں میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے جس میں عراق اپنی سیاسی، جغرافیائی اور تاریخی شناخت کے مطابق خطے میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
