کوپر کے مطابق امریکی افواج نے چھ ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا اور متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی روک دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری جہازوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اپاچی اور ایم ایچ ساٹھ سی ہاک ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق یو ایس ایس ٹرکسٹن اور یو ایس ایس میسن نامی جنگی جہازوں نے شدید خطرات کے باوجود آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیجی پانیوں میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے اس دوران کوئی تجارتی جہاز یا تیل بردار ٹینکر نہیں گزرا۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ اپنی عسکری موجودگی کو جواز فراہم کر سکے۔
