
کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی الیکشن کمیشن نے بی جے پی کو 100 نشستیں “دلوائی” ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت انتخابات نہیں ہاری اور نہ ہی وہ گورنر کو استعفیٰ پیش کریں گی۔
اپنے بیان میں ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کا کردار متنازع رہا اور مرکزی اداروں نے بی جے پی کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے نام پر تقریباً 90 لاکھ ووٹ حذف کیے گئے، جس سے نتائج متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی سیاسی زندگی میں انہوں نے ایسے انتخابات کبھی نہیں دیکھے اور ووٹوں کی مبینہ “چوری” کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی فورسز نے ان سمیت ترنمول کانگریس کے قائدین کو نشانہ بنایا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ انتخابی نتائج کے بعد کانگریس قائدین سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے ان سے فون پر بات کی، اور وہ بدستور انڈیا اتحاد کا حصہ ہیں۔ انہوں نے آئندہ دنوں میں اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ممتا بنرجی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ وہ لوک سبھا جائیں گی، اور کہا کہ وہ بنگال میں رہ کر ہی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
واضح رہے کہ 294 رکنی اسمبلی میں بی جے پی اتحاد نے 208 نشستیں حاصل کرتے ہوئے پہلی بار مغربی بنگال میں اقتدار حاصل کیا ہے، جبکہ ممتا بنرجی کو بھوانی پور حلقہ میں بی جے پی کے امیدوار سوویندو ادھیکاری کے ہاتھوں تقریباً 15 ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
