رواں اسمبلی انتخاب میں نینار ناگیندر، ایل مروگن، تمیلیسائی سوندراجن اور ونتھی سرینواسن سمیت بی جے پی کے کئی اہم لیڈران کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔


i
تمل ناڈو میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف بی جے پی کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت والی این ڈی اے کے تحت 27 سیٹوں پر انتخاب لڑنے کے باوجود پارٹی صرف ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب رہی۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے اپریل 2025 میں اے آئی اے ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کیا اور 2026 کے اسمبلی انتخاب میں 2021 کے مقابلے زیادہ سیٹوں کے ساتھ میدان میں اتری۔
2024 کے لوک سبھا انتخاب میں بہتر کارکردگی اور اہم انتخابی حلقوں میں سینئر لیڈران کی تعیناتی کے دَم پر پارٹی کو امید تھی کہ وہ اپنی تنظیمی قوت کو انتخابی فائدے میں تبدیل کر پائے گی، حالانکہ یہ حکمت عملی زمینی سطح پر کارگر ثابت نہیں ہو پائی۔ رواں اسمبلی انتخاب میں نینار ناگیندر، ایل مروگن، تمیلیسائی سوندراجن اور ونتھی سرینواسن سمیت کئی اہم لیڈران کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کی شکست نے پارٹی کے اندرونی جائزے کو تیز کر دیا ہے، ساتھ ہی قیادت کی حکمت عملی اور انتخابی مہم کے نفاذ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بی جے پی کی حلیف پارٹیاں بھی انتخابی اثر ڈالنے میں ناکام رہی۔ جی کے واسن کی قیادت والی تمل مانیلا کانگریس (موپانار) اتحاد کے تحت لڑی گئی تمام 5 سیٹیں ہار گئیں۔ دیگر چھوٹی حلیف پارٹیاں بھی اپنی موجودگی کو جیت میں تبدیل نہ کر سکیں، جو اتحاد کے ووٹ کو منتقل کرنے کے نظام کی مجموعی ناکامی کا ظاہر کرتا ہے۔
تمل ناڈو میں بی جے پی کی خراب کارکردگی کی ایک اہم وجہ اداکار سے سیاستداں بنے وجے کی پارٹی تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کا ظہور تھا، جس نے روایتی انتخابی رجحانات کو درہم برہم کر دیا۔ شہری ووٹرس اور نوجوانوں کے درمیان پارٹی کی غیر معمولی مقبولیت نے کئی انتخابی حلقوں میں بی جے پی کی حمایتی بنیاد کو کمزور کر دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈران کی شکست نے تنظیمی تبدیلیوں پر بحث چھیڑ دی ہے، جس میں ریاستی اکائی اور مرکز میں پارٹی کی نمائندگی میں رد و بدل بھی شامل ہے۔ پارٹی کے اندر اے آئی اے ڈی ایم کے کے ساتھ دوبارہ کیے گئے اتحاد کے اثر کے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اس سے ریاست میں بی جے پی کی آزادانہ ترقی کی راہ کمزور ہو سکتی ہے۔ نوجوان ووٹرس کے ساتھ محسوس ہونے والی دوری نے خود احتسابی کے عمل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

