یورینیم افزودگی کی سطح پر کوئی قانونی پابندی نہیں، اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا مؤقف

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے واضح کیا ہے کہ قانونی نقطۂ نظر سے یورینیم افزودگی کی سطح پر کوئی حد مقرر نہیں، کیونکہ ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں عالمی ادارے کی نگرانی میں انجام پا رہی ہیں۔

ایرانی مستقل مشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جوہری پھیلاؤ کی روک تھام اور تخفیفِ اسلحہ کے معاملے میں واشنگٹن کا کردار انتہائی شرمناک رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کے پاس ہزاروں جوہری ہتھیار موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے آرٹیکل 1 اور آرٹیکل 6 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ایرانی مشن نے زور دیا کہ امریکہ کو دیگر ممالک کے جوہری معاملات میں دوہرے معیار اور ناانصافی پر مبنی رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

بیان میں یہ بھی دہرایا گیا کہ یورینیم افزودگی سمیت ایران کی تمام جوہری سرگرمیاں ہمیشہ عالمی جوہری نگرانی کے ادارے کی نگرانی میں اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں انجام دی جارہی ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *