ماہرین کے مطابق ایرانی ٹینکر کی جانب سے امریکی ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے کے لیے ممکنہ طور پر مخصوص تکنیکی طریقے اختیار کیے گئے جس کے باعث اس کی درست لوکیشن کچھ عرصے تک معلوم نہ ہو سکی۔


i
امریکہ اور ایران کے درمیان سمندر میں آنکھ مچولی کا کھیل جاری ہے۔ اس دوران ایک رپورٹ نے دنیا بھر میں کھلبلی مچا دی ہے۔ مانیٹرنگ فرم ’ٹینکر ٹریکرس ڈاٹ کوم‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا ایک بہت بڑا تیل کا جہاز امریکی بحریہ کی سخت ناکہ بندی اور ٹریکنگ سسٹم کو چکمہ دے کر بحفاطت باہر نکل گیا ہے۔ ایران کا یہ جہاز اب مشرق بعید کے سمندری علاقے میں پہنچ گیا ہے۔ اس واقعہ سے جہاں امریکی دعووں کی قلعی کھل گئی ہے وہیں امریکی بحریہ کی چوکسی پر کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندر میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
میرین مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی کا ویری لارج کروڈ کیریئر(وی ایل سی سی) ’’ایچ یوجی ای‘‘ (آئی ایم او 9357183) ایک ہفتہ قبل سری لنکا کے قریب آخری بار دیکھا گیا تھا جس کے بعد اس کی نقل و حرکت خفیہ ہو گئی تھی۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ٹینکر اس وقت انڈونیشیا کے لومبوک آبنائے سے گزرتے ہوئے ریاؤ جزائر کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جہاز پر تقریباً 19 لاکھ بیرل خام تیل موجود ہے جس کی مالیت 22 کروڑ ڈالر کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹینکر کی جانب سے ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے کے لیے ممکنہ طور پر مخصوص تکنیکی طریقے اختیار کیے گئے جس کے باعث اس کی درست لوکیشن کچھ عرصے تک معلوم نہ ہو سکی۔
دراصل امریکہ نے تہران پر اقتصادی دباؤ بنانے کے لیے ایران کی تیل کی تجارت کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے لیے امریکی بحریہ نے سمندر میں سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ تاہم ٹریکنگ فرم کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک بڑے جہاز نے کامیابی سے اس ناکہ بندی کو ناکام بنادیا۔ یہ کوئی چھوٹا جہاز نہیں ہے بلکہ یہ اپنے اندرلاکھوں بیرل خام تیل لے کر جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے29 اپریل کو دعویٰ کیا تھا کہ اس کے کم از کم 52 بحری جہازوں نے کامیابی کے ساتھ امریکی ناکہ بندی کو ناکام بنادیا ہے۔ دریں اثنا، امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جب سے ناکہ بندی شروع ہوئی ہے، انہوں نے ایران سے منسلک تقریباً 41 جہازوں کو واپس لوٹنے پر مجبور کیا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ ان کی یہ ناکہ بندی کافی اثر دار ثابت ہو رہی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ایران اپنا تیل برآمد کرنے سے قاصر ہے اور اسے تیل ذخیرہ کرنے یا پیداوار روکنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے۔
ہفتے کے روز نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ نے حکام کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی سمندری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کو خاصا معاشی نقصان ہوا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگن) کے اندازوں کے مطابق اس ناکہ بندی سے ایران کو تقریباً 4.8 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ہندوستانی روپے میں تبدیل کیا جائے تو یہ نقصان تقریباً 456 ارب روپے (45,600 کروڑ روپے) کے تیل کی آمدنی کا ہے۔
