اس سے قبل کیوبا نے امریکہ کی نئی پابندیوں کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے سرے سے خارج کر دیا تھا۔ کیوبا کا کہنا ہے کہ یہ قدم ملک کے عوام کو اجتماعی طور پر سزا دینے کے ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔ برونو روڈریگز نے کہا کہ ’’ہم امریکی حکومت کی جانب سے اپنائی گئی حالیہ یکطرفہ تدابیر کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدامات دائرہ اختیار سے باہر اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں، ساتھ ہی امریکہ کو کیوبا یا کسی تیسرے ملک پر ایسی پابندیاں عائد کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ کیوبا کے وزیر خارجہ کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے جمعہ کو کیوبا پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس میں امریکہ کے اندر یا اس کے کنٹرول میں آنے والے متعلقہ اثاثوں کو منجمد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
کیوبا نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا دیا جواب، امریکی عوام سے پوچھا ’کیا آپ ایسا ہونے دیں گے؟‘
