ممتا بنرجی کو سپریم کورٹ سے لگا دھکہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ہفتہ کے روز ٹی ایم سی کی اس عرضی پر سماعت کی جس میں ممتا بنرجی کی پارٹی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے جس میں کاونٹنگ آبزرسرس کے طور پر صرف مرکزی

 

ملازمین یا پی ایس یو اسٹاف رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ ٹی ایم سی نے اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ ہائی کورٹ نے اعتراض خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ کاؤنٹنگ اسٹاف کی تقرری الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں

 

آتی ہے اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے۔ٹی ایم سی کی عرضی پر ہفتہ کو عدالتِ عظمیٰ نے بنا کوئی ہدایت جاری کیے سماعت ختم کر دی۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں کسی حکم کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے صرف

 

الیکشن کمیشن کی اس بات کو درج کیا کہ گنتی کے ملازمین کی تقرری سے متعلق سرکلر پر لفظ بہ لفظ عمل کیا جائے گا۔ یہ اس وقت ہوا جب ترنمول کانگریس نے کہا کہ اب وہ صرف یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ سرکلر کے مطابق ہر کاؤنٹنگ

 

سینٹر پر کم از کم ایک شخص ریاستی حکومت کا ملازم ہو۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ سرکاری ملازمین سے کسی بھی قسم کی وفاداری کی توقع نہیں کی جا سکتی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ سرکاری فرائض کے تحت

 

کام کرتے ہیں۔ترنمول کانگریس کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے واضح کیا کہ پارٹی کی تشویش ریاستی حکومت کے نامزد افراد کی عدم موجودگی کو لے کر ہے۔ بنچ نے موقف میں آئی اس تبدیلی پر غور کیا اور تبصرہ

 

کیا کہ عرضی میں پہلے سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، لیکن اب اسے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سبل نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے تحفظ پر بھی تشویش ظاہر کی اور الزام لگایا کہ اسے ضائع کر دیا جاتا ہے۔تاہم الیکشن کمیشن نے

 

عدالت کو بتایا کہ وہ سرکلر پر صحیح طریقے سے عمل کر رہا ہے اور کہا کہ انتظامات توازن کو یقینی بناتے ہیں جہاں کاؤنٹنگ آبزرورس مرکزی حکومت سے ہے وہیں کاؤنٹنگ ایجنٹ ریاستی حکومت سے ہیں۔عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ اگر

 

گنتی کے نگرانوں اور معاونین کو مکمل طور پر مرکزی سرکاری ملازمین سے بھی لیا جاتا ہے، تو اسے غلط نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دفعات الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ڈھانچے کے تحت ریاست یا مرکز کے افسران کے گروپ سے انتخاب کی

 

اجازت دیتی ہیں۔سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ “ممکنہ بے ضابطگی” کا حوالہ دینا ریاستی حکومت پر انگلی اٹھانے کے مترادف ہے۔ بنچ نے جواب دیا کہ گنتی کے لیے تعینات تمام اہلکار الیکشن کمیشن کے کنٹرول میں ہیں، اس

 

لیے یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ مرکز سے ہیں یا ریاست سے۔ بنچ نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ الیکشن اور کاؤنٹنگ ایجنٹ موجود رہیں گے اور ہر کاؤنٹنگ سینٹر پر تین اہلکار ہوں گے۔کپل

 

سبل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ قوانین کو من مانے طریقے سے نافذ نہیں کیا جا سکتا، اور الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بے ضابطگیوں کے خدشات کا حوالہ دے کر ریاست کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ تمام کاؤنٹنگ

 

اسٹاف الیکشن کمیشن کے کنٹرول میں کام کرتے ہیں، جس سے مرکز بمقابلہ ریاست کا مسئلہ غیر متعلقہ ہو جاتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ قوانین دونوں گروہوں کے ملازمین کو اجازت دیتے ہیں، جو الیکشن کمیشن کے نقطہ نظر کی تائید

 

کرتا ہے۔سبل نے کاؤنٹنگ اسٹاف کو لے کر الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں کئی اعتراضات اٹھائے۔ سبل نے بنچ کے سامنے چار نکات رکھے۔ اجلاسوں میں شفافیت کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے انہوں

 

نے کہا کہ میٹنگز تو ہوتی ہیں، لیکن ہمیں ان کی اطلاع نہیں دی جاتی۔ انہوں نے مزید دلیل دی کہ مرکزی حکومت کا نامزد کردہ ایک شخص پہلے ہی مائیکرو آبزرویور کے طور پر موجود ہے اس لیے ایسی ایک اور تقرری کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔

 

متعلقہ سرکلر کا حوالہ دیتے ہوئے سبل نے کہا کہ اس میں ریاستی حکومت کے نامزد شخص کی تقرری لازمی ہے لیکن حکام اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں۔ تاہم بنچ نے جواب دیا، “ایسا نہیں

 

ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 13 اپریل کو ایک سرکلر جاری کیا تھا جس کے مطابق گنتی کی ہر ٹیبل پر سپروائزر یا اسسٹنٹ میں سے کم از کم ایک ملازم کا مرکزی حکومت یا پبلک سیکٹر (PSU) سے ہونا لازمی ہے۔ٹی ایم سی کا

 

الزام ہے کہ مرکزی حکومت کے ملازمین بی جے پی کے اثر میں کام کر سکتے ہیں۔ اس لیے ریاستی حکومت کے ملازمین کی بھی تقرری کی جائے۔ ٹی ایم سی نے یہ شکایت الیکشن کمیشن سے بھی کی تھی، جس کے بعد وہ کلکتہ ہائی

 

کورٹ پہنچی۔ وہاں سے ٹی ایم سی کو جھٹکا لگا اور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے سرکلر کو درست قرار دیا۔ اس کے بعد ٹی ایم سی نے جمعہ کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، جس پر آج یعنی ہفتہ کو سماعت ہوئی۔ تمام

 

فریقین کو سننے کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے ٹی ایم سی کی عرضی ایک طرح سے خارج کر دی اور کہا کہ اس میں کسی حکم کی ضرورت نہیں ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *