ٹرمپ کے پاس ایران پر فتح کا کوئی راستہ نہیں، ہر فیصلہ شکست پر منتج ہوگا، الجزیرہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے اہداف حاصل کرنے میں سخت ناکامی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے الجزیرہ چینل کے تجزیہ کار منیر شفیق نے کہا ہے کہ دوسری مدت صدارت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی متضاد اور غیر یقینی ہوچکی ہے، کیونکہ ایران کے خلاف جنگ میں ناکامی کے بعد اب واشنگٹن کے پاس ایسا کوئی آپشن نہیں بچا جو اسے کامیابی دلا سکے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایک تجزیاتی نوٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے آغاز کے بعد ایک غیر حقیقت پسندانہ ہدف اپنایا تاہم یہ مقصد پورا نہ ہوسکا۔

الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن کی توقعات کے برعکس ایران نے انسانی اور مالی نقصانات کے باوجود اپنا داخلی اتحاد برقرار رکھا اور سیاسی و عسکری میدان میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ میں ناکامی کے بعد ٹرمپ نے بیک وقت دو متضاد راستے اختیار کیے: ایک طرف حملوں میں شدت، بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی دھمکیاں دیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان کی ثالثی کے ذریعے اور بعض علاقائی ممالک کی حمایت سے مذاکرات کی راہ نکالنے کی کوشش کی۔

منیر شفیق کے مطابق ٹرمپ اس وقت دو بڑے خسارے کے درمیان پھنس چکا ہے۔ پہلا خسارہ جنگ جاری رکھنا ہے، جو کسی واضح عسکری کامیابی کے بغیر امریکہ پر داخلی و عالمی دباؤ بڑھائے گا اور واشنگٹن کی ساکھ مزید کمزور کرے گا۔ دوسرا خسارہ یہ ہے کہ اگر امریکہ ایران کی شرائط پر کسی معاہدے کو قبول کرتا ہے تو یہ درحقیقت جنگ میں ناکامی اور نظام کی تبدیلی کے ہدف کی ناکامی کا اعتراف ہوگا۔

الجزیرہ کے مطابق اب ٹرمپ جو بھی فیصلہ کرے، وہ امریکہ اور اسرائیل کی حکمتِ عملی کی شکست کی علامت ہوگا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کی علاقائی حیثیت کمزور اور مشرق وسطی میں طاقت کا توازن واشنگٹن کے خلاف بدل جائے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *