جئے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ اب ہندوستانی جمہوریت میں ’چھوٹی چھوٹی مہربانیاں‘ ہی باقی رہ گئی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جن ارکان پر حال ہی تک بھارتیہ جنتا پارٹی خود بدعنوانی اور دیانتداری سے متعلق سنگین سوال اٹھا رہی تھی، آج وہی ارکان پارٹی میں شامل ہونے کے بعد قابل قبول ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ سیاسی مفاد پرستی کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ان میں سے کچھ ارکان کے خلاف حالیہ دنوں میں چھاپے مارے جا رہے تھے لیکن اب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسی کارروائیاں رک جائیں گی۔ جئے رام رمیش نے الزام لگایا کہ جو چھاپے ہونے والے تھے، وہ بھی اب نہیں ہوں گے، جس سے پورے عمل پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’سرجیکل اسٹرائک‘ اور ’پری ایمپٹیو ایکشن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’لوٹس اب لوٹس نہیں بلکہ لُوٹس (Lootus) بن چکا ہے‘، جو بدعنوانی کی طرف اشارہ ہے۔
