اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’غازی پور میں ہمارے لوگوں کے ساتھ بہت خراب سلوک ہوا ہے اور یہ سب حکومت کے اشارے پر کرایا گیا۔ بی جے پی والے جب خود کچھ نہیں کر پا رہے تو دوسروں سے خط لکھوا رہے ہیں۔‘‘


i
اترپردیش کے غازی پور میں گزشتہ دنوں ایک لڑکی کے قتل کے بعد ریاست کی سیاست تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ اس کی جانب سے بھیجے گئے وفد کو متاثرہ خاندان سے ملنے نہیں دیا گیا۔ اس درمیان سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ غازی پور میں ہمارے لوگوں کے ساتھ بہت خراب سلوک ہوا۔ کل سماجوادی پارٹی کا ایک وفد غازی پور میں متاثرہ خاندان سے ملنے جائے گا، ساتھ ہی ان کو معاشی مدد مہیا کرائی جائے گی۔
اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ ’’غازی پور میں ہمارے لوگوں کے ساتھ بہت خراب سلوک ہوا ہے اور یہ سب حکومت کے اشارے پر کرایا گیا۔ بی جے پی والے جب خود کچھ نہیں کر پا رہے تو دوسروں سے خط لکھوا رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا وفد کل غازی پور جائے گا اور خاندان سے مل کر ان کی مدد کرے گا اور ان کی بات سن کر آئے گا۔‘‘ سابق وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندان کو 5 لاکھ روپے کی معاشی مدد دینے کی بھی بات کہی۔
بی جے پی حکومت ہدف تنقید بناتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’یوپی میں جب سے بی جے پی حکومت آئی ہے تب سے بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم میں اضافہ ہوا ہے۔ بی جے پی والے خواتین کے نام پر ریلیاں اور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لیکن غازی پور کی بیٹی جس حالت میں ملی ایک بار اس کی تصویر تو دیکھ لیتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سب سے زیادہ خواتین اور بیٹیاں اگر کہیں غیر محفوظ ہیں تو وہ اترپردیش ہی ہے۔‘‘
اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ غازی پور میں ہمارے لوگوں کے ساتھ برا سلوک ہوا ہے، اس میں بی جے پی کے لوگ شامل ہیں۔ بی جے پی نہیں چاہتی کہ ہم پی ڈی اے کے ساتھ کھڑے ہوں، لوگوں کو ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ ہم لوگوں نے طے کیا ہے کہ 5 لاکھ روپے سے مدد کریں گے، کل ہمارا وفد جائے گا جس میں ہماری رکن اسمبلی ریتا وشوکرما بھی شامل رہیں گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اکھلیش یادو خود متاثرہ خاندان سے ملنے کے لیے 29 اپریل کو غازی پور آ سکتے ہیں۔
وفد کو جانے دینے کی اجازت کے بارے میں بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’ہمارے وفد کو غازی پور جانے دو ورنہ ہم تو ہیں ہی۔ اگر خاندان نے شک ظاہر کیا ہے تو جانچ ہونی چاہیے، جہاں بیٹی کی لاش ملی ہے وہاں تو 2 فٹ پانی بھی نہیں ہے۔ ہمارا وفد جائے گا، ان کی مدد کرے گا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
