ایم ایس حفظ اکیڈیمی ۔ حفظِ قرآن، عصری تعلیم اور شخصیت سازی کا منفرد سفر

حیدرآباد ۔ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے بانی و چیئرمین محمد لطیف خان کے وژن کے تحت قائم ایم ایس حفظ اکیڈیمی حفظِ قرآن کے میدان میں ایک منفرد اور کامیاب ماڈل کے طور پر سامنے آئی ہے، جہاں دینی تعلیم کو عصری تعلیم کے ساتھ متوازن انداز میں جوڑا گیا ہے۔ اکیڈیمی کا مقصد صرف بچوں کو حافظِ قرآن بنانا نہیں بلکہ انہیں ایسی مضبوط علمی اور اخلاقی بنیاد فراہم کرنا ہے، جس کے ذریعے وہ دین اور دنیا دونوں میدانوں میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

 

محمد لطیف خان کے مطابق، ماضی میں والدین کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ بچوں کو حفظِ قرآن بھی کروایا جائے اور ان کی مین اسٹریم تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔ کبھی بچوں کو اسکول سے نکال کر دینی اداروں میں داخل کیا گیا، جبکہ بعض مقامات پر اسکولوں کے اندر حفظ پروگرام متعارف کروائے گئے، مگر ان تجربات میں حفظ اور عصری تعلیم کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان نہ تھا۔ انہی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم ایس حفظ اکیڈیمی کا قیام عمل میں آیا، جہاں جدید تدریسی طریقوں کے ذریعے بچوں کو مختصر مدت میں حفظ مکمل کروانے کے ساتھ تعلیمی تسلسل برقرار رکھا جاتا ہے۔

 

اکیڈیمی کی نمایاں خصوصیت اس کا میموری ٹریننگ سسٹم ہے، جس میں کلر کوڈنگ، ہائی لائٹنگ، تصویری یادداشت اور ذہنی تربیت کے اصول شامل ہیں۔ اس منفرد نظام کے ذریعے طلبہ اپنی غلطیوں کو جلد پہچانتے اور بہتر انداز میں اصلاح کرتے ہیں۔ اساتذہ مخصوص رنگوں کے ذریعے سبق کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے یادداشت مضبوط ہوتی ہے اور حفظ کا عمل آسان بن جاتا ہے۔

 

ایم ایس حفظ اکیڈیمی کا حفظ قرآن کا دوسالہ پروگرام عام طور پر چوتھی جماعت پاس طلبہ کے لیے شروع ہوتا ہے، جہاں لڑکے اور لڑکیاں داخلہ لے سکتے ہیں ۔ پروگرام کے پہلے سال میں طلبہ کو انگریزی، اردو، تلگو، ریاضی اور سائنس جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں تاکہ ان کی تعلیمی بنیاد مضبوط رہے۔ تیسرے سال میں طلبہ کے لیے برج کورس متعارف کروایا جاتا ہے، جس میں چھٹی اور ساتویں جماعت کے نصاب کا احاطہ کیا جاتا ہے، تاکہ وہ بغیر کسی تعلیمی خلل کے مین اسٹریم تعلیم میں دوبارہ شامل ہو سکیں۔

 

اکیڈیمی میں بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک مؤثر نظام بھی موجود ہے، جہاں وقت پر پارے مکمل کرنے والے طلبہ کو انعامات اور اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے بچوں میں شوق، اعتماد اور مسلسل محنت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ایم ایس حفظ اکیڈیمی کی کامیابیوں میں ایک نمایاں مثال عافیہ مریم ہیں، جنہوں نے صرف آٹھ ماہ میں قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی اور اس کے بعد اپنی ریگیولر تعلیم بھی جاری رکھی۔

 

ان کی کامیابی نہ صرف انفرادی محنت بلکہ اکیڈیمی کے تربیتی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کی بڑی بہن شافیہ ارم نے بھی صرف نو ماہ میں حفظِ قرآن مکمل کیا، جو اس ادارے کے مؤثر ماحول اور تدریسی انداز کا واضح ثبوت ہے۔اکیڈیمی کے سابق طلبہ بھی مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

 

حافظ محمد عبد المحیط ثمال نے حفظ مکمل کرنے کے بعد دسویں جماعت میں 10/10 CGPA حاصل کیا اور JEE Advanced 2025 میں آل انڈیا 1345 رینک کے ساتھ آئی آئی ٹی میں داخلہ حاصل کیا۔ اسی طرح حافظ سید عبدالرحیم شکور نے NEET 2023 میں 670/720 اسکور کرتے ہوئے عثمانیہ میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا۔سال 2025 میں 109 طلبہ نے حفظِ قرآن مکمل کیا، جبکہ قیام سے اب تک مجموعی طور پر 481 طلبہ و طالبات حافظِ قرآن بن چکے ہیں ، ان میں 47 طلبہ و طالبات نے ایک بیٹھک میں قرآن سنانے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں۔ اس وقت حیدرآباد میں اکیڈیمی کی 8 شاخیں چارمینار، سنتوش نگر، راجندرنگر، مراد نگر، وجئے نگر کالونی، ٹولی چوکی، سن سٹی اور مشیرآباد میں قائم ہیں، جبکہ دہلی میں تین برانچز، یعنی ذاکر نگر، موج پور اور پرانی دہلی، کے ذریعے خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔ طلبہ اور طالبات کے لیے علیحدہ کیمپس کا انتظام موجود ہے تاکہ بہترین تعلیمی اور تربیتی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

 

ایم ایس حفظ اکیڈیمی نہ صرف حفظِ قرآن کا ادارہ ہے بلکہ ایک ایسا تربیتی مرکز ہے جہاں بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر یکساں توجہ دی جاتی ہے۔

 

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *