سینئر ایڈووکیٹ گوپال شنکر نارائن نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ کے سامنے کہا کہ ’’کسی لازمی وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے بغیر ہی گروگرام میں انہدامی کارروائی کی جا رہی ہے۔‘‘


i
سپریم کورٹ نے پیر (27 اپریل) کو گروگرام میں جاری انہدامی مہم کو چیلنج دینے والی ایک عرضی پر سماعت کرنے انکار کر دیا ہے اور عرضی گزاروں سے اس معاملے کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ لے جانے کو کہا۔ ساتھ ہی عرضی گزاروں کو آج ہی ہائی کورٹ کے سامنے اس معاملے کا فوری ذکر کرنے کی بھی آزادی دی گئی اور سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ اس معاملہ پر لنچ بریک کے فوراً بعد سماعت کریں۔
سینئر ایڈووکیٹ گوپال شنکر نارائن نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ کے سامنے زبانی طور پر اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی لازمی ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ جاری کیے بغیر ہی گروگرام میں انہدامی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ توڑ پھوڑ کے متعلق کچھ نہیں کہا، حکم کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔ اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے پوچھا ’’لیکن یہ تو غیر قانونی تعمیرات ہیں۔ اگر ہائی کورٹ اپنا آئینی فریضہ انجام دے رہی ہے تو ایک اعلیٰ ادارہ کے طور پر ہم اس میں رکاوٹ کیوں ڈالیں؟‘‘
ایڈووکیٹ شنکر نارائن نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افسران نے ہائی کورٹ سے منظور شدہ ایک عبوری حکم کی غلط تشریح کر کے انہدامی عمل شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تعمیرات قانونی ہیں۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے اس پر کہا کہ یہ دلیل ہائی کورٹ کے سامنے اٹھایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں یہ عرضی گروگرام کے سیکٹر-31 (لین 635 سے 937) کے شہریوں کی جانب سے داخل کی گئی ہے، جس میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک عبوری حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس حکم نے ’اسٹلٹ + 4‘ (ایس + 4) تعمیراتی پالیسی پر پورے صوبہ میں روک لگا دی ہے۔ عرضی گزاروں کی دلیل ہے کہ افسران نے اس حکم کا غلط استعمال کر کے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی شروع کر دیا ہے، جس کی وجہ سے گروگرام میں ہزاروں شہری متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ اسپیشل لیو پیٹیشن ہائی کورٹ کے 2 اپریل کے عبوری حکم کے خلاف داخل کی گئی ہے جو ایک زیر التوا مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) سے منسلک ہے۔ عرضی گزاروں کا دعویٰ ہے کہ انتظامی افسران نے اس روک کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، تاکہ قانونی طریقۂ کار کو درکنار کر سکیں اور بغیر کسی لیگل نوٹس یا عدالتی فیصلے کے پورے شہر میں تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کر سکیں۔
عرضی گزار کے مطابق ایس+4 تعمیراتی پالیسی پر ہائی کورٹ کی روک کے بعد افسران نے 16 اپریل کو ایک حکم جاری کیا۔ انہوں نے اس حکم کی تشریح اس طرح کی کہ یہ کئی رہائشی سیکٹرز میں چہار دیواری، ریمپ اور ہرے بھرے علاقوں کو فوری طور پر توڑنے کا اختیار دیتا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ ہائی کورٹ نے صرف پالیسی نوٹیفکیشن کے نفاذ پر روک لگائی تھی، اور اس نے کسی بھی طرح کی مسماری یا تجاوزات کے خلاف کارروائی کا حکم نہیں دیا تھا۔
ریزیڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن (آر ڈبلیو اے) کا کہنا ہے کہ اس سے متاثرہ سیکٹرز میں 3 دہائیوں سے زیادہ وقت سے رہ رہے تقریباً 1500 خاندانوں کو اب اپنی جائیدادوں کے فوری طور پر منہدم کیے جانے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ الزام ہے کہ افسران کسی کو بھی وجہ بتاؤ نوٹس یا سماعت کا موقع دیے بغیر ہی کارروائی کر رہے ہیں۔
