ایران اور امریکہ کے درمیان اب امن مذاکرہ فون پر ہوگا!

معاملہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کو لے کر پھنسا ہوا ہے۔ ایران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ امریکہ ہرمز پر ناکہ بندی ختم کرے، تبھی امن مذاکرہ کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)</p></div><div class="paragraphs"><p>امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)</p></div>

i

user

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ امن مذاکرہ کے بارے میں ایک انتہائی اہم بیان دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے پرواز میں 17 گھنٹے لگا کر وفد بھیجنے کے بجائے فون پر بات چیت کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمارے پاس سبھی متبادل موجود ہیں۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا ہمیں فون کر سکتے ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے روز ایران-امریکہ کی بات چیت اس وقت ناکام ہوتی دکھائی دی جب تہران کے اعلیٰ سفارت کار پاکستان سے روانہ ہو گئے تھے۔ اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے بھی اپنے نمائندوں کو پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ ایرانی وفد نے اپنی شرائط سے پاکستان کو مطلع کر دیا تاکہ امریکہ تک بات پہنچائی جا سکے۔ معاملہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کو لے کر پھنسا ہوا ہے۔ ایران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ امریکہ ہرمز پر ناکہ بندی ختم کرے، تبھی امن مذاکرہ کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

’فاکس نیوز‘ سے گفتگو میں ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی فوج کو پسپا کرنے کا دعویٰ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ان کے پاس اب فضائیہ باقی نہیں رہی ہے۔ ان کے پاس بحریہ بھی نہیں بچی ہے۔ ان کے پاس اینٹی ایئرکرافٹ گنز نہیں ہیں، ان کے پاس رڈار نہیں ہیں۔ سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ان کے کارخانے، ان کے میزائل بنانے والے کارخانے تقریباً 75 فیصد نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کی حالت بہت خراب ہے۔ ہم نے ناکہ بندی کر دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ انہیں اب مزید پیسہ نہیں مل سکتا۔‘‘

ٹرمپ نے ایران سے مذاکرہ کی کوششوں کے درمیان امریکہ کی جلد فتحیابی کی امید ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے ایران سمجھداری سے کام لے گا، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو بھی ہم ہی جنگ جیتیں گے۔‘‘ ٹرمپ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ایران کی قیادت میں اندرونی اختلافات ہیں۔ ان کے بڑے لیڈران مارے جا چکے ہیں۔ وہ ان لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت پسند تھے جن سے ہم ابھی نمٹ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ بہت سمجھدار ہیں اور کچھ نہیں۔ وہ آپس میں میل جول نہیں رکھ رہے ہیں۔ ان کے درمیان کافی اندرونی کشمکش جاری ہے۔‘‘

ناٹو کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس فوجی اتحاد سے بہت، بہت مایوس ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکہ اس اتحاد سے الگ ہونے پر غور کر سکتا ہے، کیونکہ رکن ممالک نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کرنے کے بعد ان کی مدد کی اپیل کو نظرانداز کر دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم کئی برسوں سے ان کی مدد کر رہے ہیں، کھربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں، اور جب ہمیں ان کی مدد کی ضرورت تھی تو وہ موجود نہیں تھے۔ اس لیے ہمیں یہ بات یاد رکھنی ہوگی۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *