حیدرآباد: تلنگانہ کی سیاسی فضا میں ایک نئی جماعت ابھری ہے۔ کلواکنٹلا کویتا نے نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کیا ہے جس کا نام ‘تلنگانہ ریاست سَینا’ (TRS) رکھا گیا ہے۔یہ اعلان ضلع میڈچل کے منیرا آباد میں منعقدہ ایک بڑے جلسے میں
کیا گیا۔ کویتا نے پارٹی کا نام باضابطہ طور پر پیش کرتے ہوئے کارکنوں سے خطاب کیا اور کہا کہ تلنگانہ کے لیے انہوں نے کئی مشکلات برداشت کیں اور مضبوط جدوجہد کی۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگرتی کے کارکنوں نے ریاستی ثقافت کے
چراغ کو محفوظ رکھا اور اندھیرے دور میں تحریک کو روشنی دی۔ ان کے مطابق جاگرتی تحریک نے تلنگانہ سماج کے لیے ایک روشنی کی لکیر کا کردار ادا کیا اور بتکماں تہوار کو دوبارہ دنیا تک پہنچایا۔کویتا نے کہا کہ جس خواب کے ساتھ تلنگانہ
حاصل کیا گیا تھا وہ مکمل طور پر حقیقت نہیں بن سکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ناقابلِ فراموش دن ہے اور تلنگانہ کے مستقبل کی تشکیل کے لیے سب کی شمولیت ضروری ہے۔ان کے مطابق کے سی آر کی قیادت میں
تحریک کا رخ بدل گیا، بی آر ایس عوام کے جذبات کو سمجھنے میں ناکام رہی،نئی ریاست میں وہ کام نہیں ہوئے جن کی توقع تھی،کسانوں اور کمزور طبقات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں انہیں اپنی ہی سیاسی
تاریخ کے کچھ حصوں پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے اور وہ عوام سے معذرت کرتی ہیں۔کویتا نے کہا کہ انہوں نے کبھی سمجھا تھا کہ تلنگانہ آنے سے غلامی کی زنجیریں ٹوٹ جائیں گی لیکن ان کے مطابق کچھ مسائل مزید بڑھ گئے۔ انہوں
نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ماضی میں ریاست میں نگرانی اور خوف کا ماحول رہا۔انہوں نے BRS (Bharat Rashtra Samithi) اور قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنی “روح” کھو چکی ہے اسی لیے نئی جماعت کی ضرورت محسوس ہوئی۔
انھوں نے وزیراعظم اور بی جے پی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حقوق اور وعدے پورے نہیں کیے گئے اور وہ سماجی انصاف کے خلاف ہیں۔ انہوں نے بی جے پی اراکینِ پارلیمنٹ کو چیلنج کیا کہ اگر وہ واقعی تلنگانہ کے نمائندے
ہیں تو سرحدی اور علاقائی مسائل پر آواز اٹھائیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ تلنگانہ کے 3.5 کروڑ عوام کے لیے ایک “ماں” کی طرح کام کرنا چاہتی ہیں اور سماجی انصاف پر مبنی تلنگانہ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی۔

