سمندری محاصرے اور مسلسل دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات قابل قبول نہیں

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: حالیہ دنوں میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بارے میں اختیار کیے گئے رویّے نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں دو مختلف نظریات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت دباؤ ڈال کر ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کا وہ مؤقف ہے جس میں دباؤ اور دھمکی کے ماحول میں مذاکرات کو مسترد کیا جاتا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ اصولی طور پر مذاکرات کے خلاف نہیں، تاہم ایسے مذاکرات کو قبول نہیں کرتا جو دھمکی، محاصرے یا جبر کے ماحول میں کیے جائیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ دباؤ کے تحت ہونے والی بات چیت نہ صرف کوئی ٹھوس فائدہ نہیں دیتی بلکہ بعض اوقات ملک کے لیے اضافی سیاسی اور معاشی نقصانات کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے سمندری محاصرے کو برقرار رکھنا صرف ایک فوجی یا اقتصادی دباؤ کا حربہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح سیاسی پیغام بھی موجود ہے۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے واشنگٹن یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ مذاکرات ہوں، مگر ایسی صورتحال میں ہوں جہاں ایران کمزور پوزیشن میں ہو۔ اس صورت حال میں امریکہ کی کوشش یہ ہے کہ ایران کو ایک مشکل انتخاب کے سامنے کھڑا کیا جائے؛ یا تو دباؤ کے ماحول میں مذاکرات قبول کرے یا پھر بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی اخراجات کا سامنا کرے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ایسی شرائط میں مذاکرات نہ صرف غیر مؤثر ہوتے ہیں بلکہ قومی وقار اور خودمختاری کے لیے بھی قابل قبول نہیں۔

ایران کی خارجہ پالیسی: عزت، حکمت اور مصلحت

ایران کی جانب سے اس صورتحال پر جواب پہلے ہی واضح تھا۔ تہران نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ جب تک سمندری محاصرہ اور بیک وقت دیگر دباؤ جاری رہیں گے، اس وقت تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ یہ مؤقف دراصل ایران کی خارجہ پالیسی کے ایک واضح نظریے سے نکلتا ہے، جو تین بنیادی اصولوں عزت، حکمت اور مصلحت پر قائم ہے۔

عزت کے اصول کا مطلب یہ ہے کہ ایران ایسی حالت قبول نہیں کرتا جس میں مذاکرات کو پسپائی یا ہتھیار ڈالنے کی علامت سمجھا جائے۔ بین الاقوامی تعلقات میں صرف مذاکرات کا نتیجہ ہی اہم نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ کوئی ملک کس انداز اور کس پوزیشن سے مذاکرات میں داخل ہوتا ہے۔ اگر کوئی ریاست کمزور حیثیت سے مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو دوسرا فریق ابتدا ہی سے برتری حاصل کر لیتا ہے اور بات چیت کے اصول اپنے مفاد کے مطابق طے کر لیتا ہے۔

حکمت کا اصول اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر مذاکرات سے پہلے اس کے فائدے اور نقصانات کا درست اندازہ لگانا ضروری ہوتا ہے۔ ایسی بات چیت جس میں دوسرا فریق بیک وقت دھمکی اور دباؤ کے ہتھیار استعمال کر رہا ہو، بنیادی طور پر غیر متوازن ہوتی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں کسی پائیدار اور متوازن معاہدے تک پہنچنے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔

اسی طرح مصلحت کا اصول اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہر قدم میں قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔ اگر کسی مذاکرات میں شامل ہونے سے ملک کو واضح فائدہ حاصل نہ ہو، یا اس کے نتیجے میں ملک کی پوزیشن کمزور ہو جائے، تو ایسے مذاکرات کی کوئی معقول وجہ باقی نہیں رہتی۔

امریکہ کی حکمت عملی اور ایران کا ردعمل

ان اصولوں کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ایران نے حالیہ امریکی دباؤ کے باوجود نہ صرف پیچھے ہٹنے سے انکار کیا بلکہ اپنے مؤقف کو پہلے سے زیادہ واضح انداز میں بیان کیا۔ اس رویے نے دراصل واشنگٹن کی حکمت عملی کو متاثر کیا اور اسے ایک طرح کے اسٹریٹجک تعطل کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی مرحلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا طرزعمل ایک بار پھر اسی انداز میں سامنے آیا جسے پہلے بھی دیکھا جا چکا ہے۔ اس انداز کو زیادہ سے زیادہ دھمکی اور فیصلہ کن وقت پر پیچھے ہٹ جانے کے امتزاج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں ٹرمپ نے سخت اور دوٹوک زبان استعمال کرتے ہوئے جنگ بندی کے خاتمے کی بات کی اور مسلسل نئی ڈیڈ لائنیں دے کر نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مقصد واضح تھا کہ دباؤ بڑھا کر ایران کو مذاکرات کی میز تک لایا جائے۔

جب اس دباؤ سے مطلوبہ نتیجہ نہ مل سکا اور تہران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہ ہوا تو واشنگٹن کے سامنے ایک مشکل انتخاب کھڑا ہوگیا۔ کشیدگی میں مزید اضافہ عالمی توانائی منڈیوں میں خلل اور خطے میں وسیع تصادم جیسے خطرناک نتائج پیدا کرسکتا تھا۔ اس کے مقابلے میں پیچھے ہٹنا اور جنگ بندی میں توسیع کرنا اگرچہ سیاسی طور پر مہنگا فیصلہ تھا، لیکن اس کے خطرات نسبتا کم تھے۔

بالآخر امریکہ نے دوسری راہ اختیار کی۔ یہی وہ صورتحال ہے جسے بعض تجزیہ کار طنزیہ انداز میں “Trump Always Chickens Out” یعنی “ٹرمپ آخرکار پیچھے ہٹ جاتا ہے” کے جملے سے بیان کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل میں دھمکیاں اکثر عملی اقدام سے زیادہ مذاکراتی دباؤ کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔

دباؤ کے تحت مذاکرات کے نتائج

تاہم معاملہ صرف ٹرمپ کے طرزِ عمل تک محدود نہیں ہے۔ اصل اہم بات یہ ہے کہ اس رویے کے دوسرے فریق پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔ جب کوئی ملک دیکھتا ہے کہ دباؤ کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے سے آخرکار مخالف فریق کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے تو اس کے اندر اسی پالیسی کو جاری رکھنے کا حوصلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں یہ صورتحال واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

درحقیقت مذاکرات اسی وقت بامعنی ہوسکتے ہیں جب دونوں فریقوں کے درمیان کم از کم ایک بنیادی توازن موجود ہو۔ اس توازن کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں کی طاقت مکمل طور پر برابر ہو، بلکہ یہ کہ کوئی بھی فریق اپنی مرضی یکطرفہ طور پر دوسرے پر مسلط نہ کر سکے۔ اگر یہ توازن موجود نہ ہو تو پھر جو کچھ ہوتا ہے وہ حقیقی مذاکرات کے بجائے شرائط مسلط کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اسی لیے ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی بات چیت سے پہلے دباؤ اور پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ تہران کے نزدیک یہ مؤقف دراصل مذاکرات کے لیے کم از کم توازن بحال کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ اس توازن کے بغیر کوئی بھی مذاکرات پہلے ہی سے ناکامی یا بے نتیجہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی حدود کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اس پالیسی کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ مسلسل دباؤ آخرکار مخالف فریق کو شرائط قبول کرنے پر مجبور کر دے گا۔ لیکن اگر سامنے والا فریق برداشت اور مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہو تو نتیجہ اس کے برعکس بھی نکل سکتا ہے یعنی جتنا زیادہ دباؤ، اتنی ہی زیادہ مزاحمت۔

ایسی حالت میں اس پالیسی کو جاری رکھنے سے نہ صرف ابتدائی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی ہوسکتی ہے بلکہ ملکی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں ساکھ ایک اہم سرمایہ ہوتی ہے۔ اگر دھمکیاں بار بار دی جائیں لیکن ان کے ساتھ عملی اقدام نہ ہو تو وقت کے ساتھ ان کی تاثیر کم ہوتی جاتی ہے۔

حاصل سخن

مجموعی طور پر حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان پیش آنے والے واقعات دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کے مختلف انداز کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک طرف دباؤ اور دھمکی کے ذریعے مذاکرات پر مجبور کرنے کی کوشش ہے، جبکہ دوسری طرف یہ مؤقف ہے کہ مذاکرات صرف اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب وہ عزت، حکمت اور مصلحت کے اصولوں کے مطابق ہوں۔

ماضی کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں کہ جب ان اصولوں کو نظر انداز کیا گیا تو اس کا نتیجہ اکثر نقصان اور سیاسی کمزوری کی صورت میں نکلا۔ اسی وجہ سے ایران نے موجودہ حالات میں اپنا راستہ واضح کر دیا ہے۔ ایران نے دباؤ کے تحت مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ حقیقی بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب اس میں توازن، باہمی احترام اور حقیقی قومی مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *