تقریباً 45 سیکنڈ کی ویڈیو میں اے آئی کے ذریعہ امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر لوگوں کو ٹیبل پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ ایرانی ٹیم کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔


i
ایران میں ان دنوں اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے تیار کردہ ایک ویڈیو سرخیوں میں ہے، جس میں امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا مذاق بنایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ حیدرآباد میں قائم ایرانی قونصلیٹ نے بھی اسے اپنے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کر دیا۔ قونصلیٹ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’جنگ بندی کو کیسے بڑھایا گیا؟ یہ ویڈیو ایران میں وائرل ہو رہی ہے۔‘‘ اس ویڈیو میں ٹرمپ کے حالیہ فیصلے پر طنز کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ جنگ بندی بڑھانے کی بات کہی تھی۔
تقریباً 45 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں اے آئی کے ذریعے امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر افراد کو ایک میز پر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ وہ ایران کے وفد کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ ویڈیو میں ٹرمپ کو سوشل میڈیا پوسٹ اس طرح ٹائپ کرتا ہوا دکھایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت اچھی چل رہی ہے۔ اس کے بعد ایک مزاحیہ منظر آتا ہے، جہاں 2000 سال کے طویل انتظار کو دکھاتے ہوئے ٹرمپ غصے میں نظر آتے ہیں، کیونکہ اس وقت تک بھی ایران کی طرف سے کوئی نہیں آتا۔
ویڈیو میں آگے ٹرمپ خالی کرسیوں سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ایران مذاکرات کے لیے نہیں آیا تو وہ حملہ کر دیں گے۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ایرانی نمائندے کہاں ہیں؟ پھر ایک معاون انہیں ایک پرچی دیتا ہے، جس پر ’شَٹ اَپ ٹرمپ‘ (چپ رہو، ٹرمپ) لکھا ہوتا ہے۔ ویڈیو کے آخر میں ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے کہنے پر جنگ بندی کی مدت بڑھا دیں گے اور ہنستے ہوئے کمرے سے باہر چلے جاتے ہیں۔ دراصل ٹرمپ نے گزشتہ دنوں بیان دیا تھا کہ پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی کی توسیع کی گئی تاکہ بات چیت کے لیے مزید وقت مل سکے۔ اس دوران یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی قیادت کو جنگ ختم کرنے کے لیے تجویز تیار کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔
تاہم ایران نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ وہ آئندہ ہونے والی بات چیت میں شامل ہوگا یا نہیں۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ انہوں نے مذاکرات کا آغاز نیک نیتی سے کیا تھا، لیکن امریکہ کی جانب سے سنجیدگی کی کمی دکھائی دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران ابھی اس بات پر فیصلہ نہیں کر پایا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ہونے والے امن مذاکرات میں حصہ لے گا یا نہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
