بعد ازاں 11 فروری کو جب نیتن یاہو وائٹ ہاؤس گئے تب سے اس پورے تنازعہ کی شروعات ہوئی۔ اس جنگ کے سبب 2 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جان جا چکی ہے اور دنیا کی معیشت بھی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ رائٹرز کی 8 اپریل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت سے ایران پر حملے کو 2 ہفتے کے لیے ملتوی کیا تھا تاکہ بات چیت ہو سکے۔ اسرائیل اس شرط پر راضی ہوا تھا کہ ایران فوری آبی گزرگاہ (آبنائے ہرمز) کھولے گا اور حملے روکے گا۔ امریکہ نے اسرائیل کو بھروسہ دیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری خطرہ نہیں بننے دے گا۔
ایران کے ساتھ جنگ: اسرائیل کی خواہش پوری کرنے سے 3 امریکی صدور نے کیا تھا انکار، ٹرمپ کی ’ہاں‘ نے بگاڑ دیے حالات
