
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی صحافی نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران سنسرشپ کے باعث حقائق چھپائے گئے، عوام جان لیں تو کابینہ کے دعوؤں پر شک کریں گے۔
فلسطین انفارمیشن سینٹر کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں گزشتہ چند دنوں کے دوران میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر شدید ہنگامہ اور بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب صہیونی ٹی وی چینل 12 کے سیاسی رپورٹر یارون آفرہام نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران صہیونی حکام کی جانب سے جھوٹ بولنے کا اعتراف کیا۔
اسرائیلی اخبار معاریو نے لکھا ہے کہ آفرہام نے ایک ٹیلی ویژن گفتگو میں کہا کہ جنگ ایران کے حوالے سے اسرائیلی عوام کو جو تصویر دکھائی گئی وہ درست نہیں، کیونکہ اہم تفصیلات میڈیا سنسرشپ کی پابندیوں کی وجہ سے چھپا لی گئیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ زمینی حقائق اور کابینہ کے سرکاری بیانیے میں نمایاں فرق موجود ہے، خصوصا وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سکیورٹی کابینہ کے دیگر اراکین کے بیانات حقیقت کے مطابق نہیں تھے۔ آفرہام کے مطابق کچھ ایسے اقدامات تھے جو کیے جانے چاہیے تھے مگر نہیں کیے گئے۔
صہیونی صحافی نے مزید کہا کہ اگر عوام ان پوشیدہ تفصیلات سے آگاہ ہوجائیں تو وہ اس قسم کے دعوؤں پر زیادہ شک کریں گے کہ ہم نے حملہ کیا، ہم نے قتل کیا اور ہم نے تباہ کر دیا۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے اور ہمیں مسلسل دھوکہ دیا گیا۔
یہ بیانات سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے بحث چھڑ گئی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نیتن یاہو حکومت کے سرکاری بیانیے پر عوامی اعتماد پہلے ہی کمزور ہو چکا ہے۔
کئی صارفین اور تجزیہ نگاروں نے کابینہ کے ساتھ ساتھ خود آفرہام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اگر ایک سینئر صحافی کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں جو جنگ کی اصل حقیقت واضح کر سکتی ہیں تو اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں منظر عام پر لانے کی کوشش کرے، نہ کہ مبہم اشاروں کے ذریعے معاملے کو ہوا دے۔
اسرائیلی معاشرے میں جاری یہ بحران اب صرف ایران کے ساتھ جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ میڈیا کے کردار، سنسرشپ کے دباؤ، عوامی شکوک و شبہات میں اضافے اور صہیونی معاشرے میں اعتماد کے گہرے بحران تک پھیل چکا ہے۔
