مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونالد ٹرمپ سے گفتگو میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی مذاکرات کے لیے مسئلہ پیدا کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس معاملے کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔
اس سے پہلے، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر دوبارہ حملے کی دھمکی کے بارے میں کہا تھا کہ آئندہ دور کے مذاکرات کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے موجودہ متضاد صورت حال کے ایک حصے کی طرف اشارہ کیا ہے: یعنی ایک طرف امریکہ سفارت کاری کا دعوی کرتا ہے، اور دوسری طرف ایسے اقدامات کرتا ہے جو کسی بھی سنجیدہ سفارتی عمل کی علامت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے آغاز ہی سے امریکہ کی جانب سے وعدہ خلافی اور اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پہلے کہا گیا کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں، جبکہ پاکستان نے اس کی وضاحت کر دی تھی۔ اس کے بعد، جب ایک سمجھوتہ طے پایا، تو آبنائے ہرمز میں بحری کارروائیوں کا سلسلہ سامنے آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند گھنٹے پہلے ایک جہاز پر حملہ کیا گیا جو جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ یہ عمل جارحیت کی مثال ہے۔ امریکہ کے بیانات اور اقدامات میں کوئی مطابقت نہیں، جس سے پورے عمل کے بارے میں ایران کے شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ ایران قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گا۔
