وزیر اعظم سانے تکائیچی نے کہا کہ ’’جن علاقوں کے لیے وارننگ جاری کی گئی ہے، وہاں رہنے والے لوگ براہ کرم اونچے اور محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔‘‘


i
جاپان میں پیر (20 اپریل) کی صبح شدید زلزلہ آیا ہے، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.4 رہی۔ جاپانی محکمہ موسمیات (جے ایم اے) نے سنامی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ اس میں ساحلی علاقوں کے پاس رہنے والے لوگوں کو فوری طور پر بحفاظت نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ اس قدرتی آفت کے سلسلے میں ایک خاص ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس سے قبل ل2011 میں جاپان میں 9.0 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں 18 ہزار سے زائد لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔
جاپانی محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ جاپان کے شمالی حصے میں آیا ہے۔ محکمہ نے کہا ہے کہ اس کے اثر سے سونامی آ سکتی ہے، جس کی لہریں تقریباً 10 فٹ اونچی اٹھنے کا امکان ہے۔ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 53 منٹ پر آیا تھا۔ شمالی ایواتے صوبے کے بحر الکاہل والے علاقے میں آئے اس زلزلہ کا اثر کافی دور تک دیکھا گیا۔ اس کے جھٹکے اس قدر تیز تھے کی سینکڑوں کلو میٹر دور ٹوکیو کی بڑی بڑی عمارتیں بھی ہل گئیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنامی کی لہریں کچھ وقت میں شمالی ساحل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس لیے ساحلی علاقوں میں رہنے والے فوری طور پر محفوظ مقامات جیسے کے اونچے میدان یا محفوظ عمارتوں میں چلے جائیں۔ ساتھ ہی وارننگ دی ہے کہ سنامی کی لہروں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ سنامی کی لہریں بار بار ساحل سے ٹکرا سکتی ہیں۔ جب تک وارننگ ہٹائی نہیں جاتی تب تک محفوظ مقامات پر ہی رہیں۔
حکومت نے زلزلہ اور سونامی سے نمٹنے کے لیے ایک ٹیم تیار کی ہے۔ وزیر اعظم سانے تکائیچی نے کہا کہ ’’جن علاقوں کے لیے وارننگ جاری کی گئی ہے، وہاں رہنے والے لوگ براہ کرم اونچے اور محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس زلزلہ کا کن کن علاقوں میں کتنا اثر پڑا ہے۔
رپورٹس کے مطاق احتیاط کے طور پر ’ہاچینوہے‘ بندرگاہ پر موجود جہاز باہر نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔ جبکہ ٹوکیو اور اوموری کے درمیان بلیٹ ٹرین کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔ افسران نے ساحلی علاقوں کے پاس رہنے والے شہریوں کو جلد از جلد علاقہ چھوڑنے اور محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل کی ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ کچھ ہی دیر میں سنامی کی لہریں ساحل سے ٹکرا سکتی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
