
تلنگانہ کے نظام آباد میں بڑے پیمانے پر سائبر کرائم کا پردہ فاش
152 کروڑ روپے کے لین دین کا انکشاف۔9 ملزم گرفتار
نظام آباد پولیس کمشنر پی سائی چیتنیا کی نگرانی میں سائبر کرائمز پر پولیس کا خصوصی آپریشن
نظام آباد:9/ اپریل (اردو لیکس) تلنگانہ کے نظام آباد ضلع میں سائبر جرائم میں حالیہ اضافہ کو روکنے کے لیے نظام آباد پولیس کمشنر پی سائی چیتنیا کی ہدایات پر ایک خصوصی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔یہ آپریشن IV ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر ستیش اور سائبر کرائم پولیس اہلکاروں کے تعاون سے کامیابی کے ساتھ انجام دیا گیا۔اس آپریشن کے تحت کل 9 سائبر مجرموں جن میں محمد جمیل احمد ارسہ پلی،شیخ شعیب ایڑپلی، محمد سمیر نظام آباد،بھانو پرساد بودھن، محمد ارباز بودھن،بی ورشم بودھن، رحیم علی نظام آباد، عبدالوسیم بودھن، شیخ سمیر بودھن، شیخ احمد نظام آباد، شیخ رحیم نظام آباد، شیخ افتخار رنجل، سبوت اشوک رنجل کو گرفتار کرکے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ اس سے قبل بھی اس معاملے میں 7 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر پولیس نے ایک ایسے نیٹ ورک کا پتہ لگایا جہاں جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے کرناٹک بینک میں غیر قانونی طور پر کرنٹ اکاؤنٹس کھولے گئے تھے اور ثالثوں کے ذریعے سائبر دھوکہ بازوں کو فروخت کیے گئے تھے۔
معلوم ہوا ہے کہ ان ملزمان نے جعلی دستاویزات سے بزنس اکاؤنٹس کھولے اور انہیں سائبر کرائمز کے لیے استعمال کیا۔ ان کھاتوں کے ذریعے صرف تین مہینوں میں 152 کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔ شبہ ہے کہ اس میں کچھ اور افراد ملوث ہیں۔ جلد ہی ان کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بینک حکام صارفین کی طرف سے فراہم کردہ دستاویزات کی درست تصدیق کیے بغیر اکاؤنٹس کھول رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ پولیس کمشنر پی سائی چیتنیا نے IV ٹاؤن پولیس اسٹیشن انسپکٹر ستیش اور عملے کو اس آپریشن کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے پر ان کی ستائش کی۔انہوں نے عوام کیلئے ہدایت جاری کی کہ کسی بھی صورت میں اپنا بینک اکاؤنٹ دوسروں کو نہ دیں اور نہ فروخت کریں۔ OTP، PIN، CVV جیسی تفصیلات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔نامعلوم کالز، لنکس یا پیغامات پر بھروسہ نہ کریں۔ان پیشکشوں پر یقین نہ کریں جو مختصر وقت میں زیادہ منافع کا وعدہ کرتی ہیں۔سائبر کرائم کی صورت میں فوری طور پر 1930 ہیلپ لائن پر کال کریں یا www.cybercrime.gov.in پر شکایت درج کریں۔سائبر کرائم کی روک تھام میں عوام کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اپنے نام یا دوسروں کے نام پر اکاؤنٹس نہ کھولیں اور نہ بیچیں۔Phonepe جیسی
ایپس کے ذریعے نامعلوم افراد سے رقم قبول نہ کریں۔AEPS خدمات فراہم کرنے والوں کو حکومتی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ زیادہ کمیشن کی امید میں مشکوک لین دین کرنے کے نتیجے میں آپ کا اکاؤنٹ روک دیا جا سکتا ہے۔
